Al-Risala · May 2026 · page 38

امن کا فارمولا

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۸

امن کا فارمولا

تمام فلاسفہ اور مصلحین اور مفکرین، امن (peace) کے موضوع پر کلام کرتے رہے ہیں۔ اس موضوع پر اتنا زیادہ لکھا گیا ہے کہ وہ ایک مستقل ڈسپلن (discipline) بن گیا ہے۔ اس ڈسپلن کا اصطلاحی نام پیسفزم (pacifism) ہے۔ پیسفزم کا مطلب ہے، عدم تشدد کا طریقہ یا امن پسندی۔ انگریزی ڈکشنری ویبسٹر کے الفاظ میں، پیسفزم اس نظریے کا نام ہے کہ قومی یا بین الالاقوامی نزاعات کو صرف پرامن ذرائع سے طے کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ طاقت یا جنگ کے ذریعے اس کو طے کیا جائے:

Pacifism: Belief that national or international disputes should be settled by peaceful means, rather than by force or war. پیسفزم کا یہ نظریہ بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں شروع ہوا۔ اس نظریے پر بڑے بڑے دماغوں نے کام کیا ہے۔ مثلاً لارڈ برٹرینڈ رسل، وغیرہ۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ سو برس سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد بھی یہ نظریہ اب تک واقعہ نہیں بنا، نہ مقامی سطح پر اور نہ بین اقوامی سطح پر۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیسفزم کے علمبردار، پیسفزم کا کوئی قابل عمل فارمولا پیش نہ کر سکے۔ اس معاملے میں قابل عمل فارمولا صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے، ڈی لنکنگ پالیسی (de-linking policy)—یعنی مسائل (problems) اور مواقع (opportunities) کو ایک دوسرے سے الگ کر دینا۔ مسائل کو پرامن گفت و شنید کے میز پر رکھ دینا، اور جہاں تک مواقع کا تعلق ہے، اس کا استعمال فوراً شروع کر دینا۔

یہ ایک واقعہ ہے کہ مواقع ہمیشہ موجود رہتے ہیں، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ نزاع (dispute) میں الجھ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگ نہ ملنے والی چیز کی خاطر، ملنے والی چیز کو بھی کھو دیتے ہیں۔ اس دنیا میں صرف پریکٹیکل پیسفزم ممکن ہے، نہ کہ آئیڈیل پیسفزم۔ اس عملی پالیسی کا دوسرا نام صبر اور اعراض ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page