Al-Risala · May 2026 · page 37

بڑھاپے کا دور

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۷

انسان کو ایک صحت مند جسم ملا ہوا ہے۔ انسان کو پیدا ہونے کے بعد یہ صحت مند جسم بظاہر اپنے آپ مل جاتا ہے، اس لیے وہ اُس کو فار گرانٹڈ (for granted) لے لیتا ہے۔ وہ کبھی سوچتا نہیں کہ یہ صحت مند جسم سر تا سر خدا کا عطیہ ہے۔ اس عطیہ کا اعتراف کرتے ہوئے مجھے خدا کے آگے جھک جانا چاہیے۔ یہی معاملہ عمر کا ہے۔ آدمی جب تک زندہ ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کی یہ زندگی ہمیشہ باقی رہے گی۔ وہ کبھی اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ یہ بلا شبہ سب سے بڑی بھول ہے۔

یہی ہر عورت اور ہر مرد کا امتحان (test) ہے۔ کامیاب شخص وہ ہے جو زندگی سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے، جو ہر ملی ہوئی چیز کو خداوند عالم کا عطیہ سمجھے۔ یہی وہ انسان ہے جو امتحان میں کامیاب ہوا۔ اس کے برعکس، جو انسان خدا کا اعتراف نہ کرے اور موت کو بھلائے ہوئے ہو، وہی وہ شخص ہے جو امتحان میں ناکام ہوگیا۔ پہلے انسان کے لیے ابدی جنت ہے اور دوسرے انسان کے لیے ابدی ناکامی۔

بڑھاپے کا دور

بڑھاپے کا دور انسان کے لیے عجز کی دریافت کا آخری موقع ہے۔ جس انسان کے اوپر بڑھاپے کا دور گزرے، وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے عجز کو دریافت کرے۔ عجز کی دریافت دوسرے اسباب سے بھی جزئی طور پر ہوتی رہتی ہے، لیکن کامل معنوں میں عجز کی دریافت صرف بڑھاپے سے حاصل ہوتی ہے۔

انسان جب جوانی کی عمر میں ہوتا ہے، اس کی تمام قوتیں شباب پر ہوتی ہیں۔ اس کے تمام آرگنز (organs) پوری طرح کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ان قوتوں کا مالک وہ خود ہے۔ بڑھاپے کی عمر اس غلط فہمی کی تردید ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page