امن کا فارمولا
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۰
پاکستان کا ایک ہفت روزہ اخبار ہے، جس کا نام ہے ”المنبر“۔ یہ فیصل آباد سے نکلتا ہے اور اس کے ایڈیٹر حکیم عبد الرحیم اشرف ہیں۔ حکیم عبد الرحیم صاحب پاکستان کے فوجی حکمراں جنرل ضیاء الحق کے زبردست حامی ہیں۔ وہ برابر ان کی حمایت میں لکھتے رہے ہیں۔ المنبر (8 جولائی 1986) میں پاکستان کے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں :
”یہی ماحول تھا کہ 5 جولائی 1977 کو مارشل لا کا اعلان ہوا اور پورے ملک میں جشن منایا گیا۔ گرتی ہوئی دیواریں تھم گئیں اور مارشل لانے دین، عظمت، شرافت، جان، مال ہر چیز کو تحفظ فراہم کیا۔ “(صفحہ 6)
حتی کہ اس مضمون میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں :
”صدر محمد ضیاء الحق کے دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس مارشل لا کے تحت نافذ کیا گیا۔ اور عہد صدیقی کے بعد، تاریخ میں پہلی مرتبہ ادعاء نبوت کا ذبہ کے استیصال کا اہتمام ہوا“۔(صفحہ 5)
ایک طرف صدر ضیاء الحق صاحب کی یہ قصیدہ خوانی ہے۔ دوسری طرف انہیں ضیاء الحق صاحب کے بارے میں پاکستان کی جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل قاضی حسین احمد کی تقریر اسی المنبر میں درج ہے جس میں یہ الفاظ شائع ہوئے ہیں :
”(صدر محمد ضیاء الحق کے) مارشل لا کے 9 سالہ دور میں اسلامی نظام کے نفاذ کے عمل کو جتنا نقصان پہنچا اتنا پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔ “(صفحہ 20)
ایک بیان کے مطابق پاکستان میں اسلام بالکل محفوظ ہے اور دوسرے بیان کے مطابق بالکل غیر محفوظ۔ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ یہ دونوں بیان کسی ایک ہی ملک کے بارے میں ہیں یا دو الگ الگ ملک کے بارے میں۔
خواجہ کلیم الدین نائجیریا (کافو) میں رہتے ہیں۔ وہاں وہ انگریزی کے ٹیچر ہیں۔ ملاقات کے