امن کا فارمولا
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۱
وقت انہوں نے بتایا کہ الرسالہ اردو وہ شروع سے پڑھتے رہے ہیں۔ پھر ایک روز انہوں نے افریقہ میں مجھ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں ان کو میں کالے افریقی کی صورت میں نظر آیا۔ اس کے بعد ان کے ذہن میں آیا کہ وہ انگریزی الرسالہ افریقہ میں چھاپیں ۔ اور اس کو "کالے براعظم" میں پھیلائیں۔ پہلا شمارہ انہوں نے مارچ 1986 میں شائع کیا تھا اور اب ان کے مطابق وہ وہاں کافی مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اس عمل کا آغاز 1979 سے ہوتا ہے، جب کہ الرسالہ کے دعوتی فکر کے تحت شیخ محمد سلیمان القائد طرابلس چھوڑ کر کیگالی ( روانڈا ) پہنچے، جو وسط افریقہ میں واقع ہے۔ یہاں انہوں نے تعارف اسلام کا کام شروع کیا۔ وہ اگست 1986 میں ہمارے مرکز (نظام الدین ویسٹ ، دہلی) آئے تھے۔ یہاں انہوں نے عربی میں ایک تقریر کی ۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ افریقہ میں جو دعوتی کام میں کر رہا ہوں وہ تمام تر اسلامی مرکز کا کام ہے۔ میں نے اس کو وحید الدین خاں ہی کے ذریعہ جانا ہے، نہ کہ کسی اور کے ذریعہ:
إِنَّ الحَقِيقَةَ أَنَّ كُلَّ هَذِهِ التَّجْرِبَةِ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ (وَحِيدِ الدِّينِ خَان) - هَذَا الَّذِي عَلَّمَنِي الدَّعْوَةَ، لَا المَوْدُودِي وَلَا سَيِّدُ قُطْب ... انہوں نے چار افریقی ملکوں (روانڈا ، یوگنڈا ، زائیر ، تنزانیہ) میں تعارف اسلام کا کام پھیلا رکھا ہے۔ انہوں نے دہلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا:
هَذِهِ أَوَّلُ مَرَّةٍ طُبِّقَتْ فِكْرَةُ الرِّسَالَةِ فِي كِيغَالِي (أَفْرِيقْيَا) شیخ القائد کا ایک تاثر ان کے اپنے عربی الفاظ میں الرسالہ 4 نومبر 1984 (صفحہ 40) میں شائع ہو چکا ہے۔ 1979 میں شیخ سلیمان القائد نے افریقہ میں جا کر کام شروع کیا۔ پھر خواجہ کلیم الدین صاحب ہندوستان سے افریقہ گئے اور وہاں 1984 میں الرسالہ انگریزی کا افریقی ایڈیشن نکالنا شروع کیا۔ بظاہر یہ معمولی واقعات نہیں ہیں ۔ یہ گویا اس مشن کی فکری ہجرت ہے۔ میں نے الرسالہ اور کتابوں میں دعوت کا جو تصور دیا ہے، وہ ہندوستان میں ابھی تک عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔ مگر افریقہ میں پھیل رہا ہے۔