ایک قابلِ ذکر واقعہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۷
گا ۔ “ اور وہ مجمع جو خون بہانے آیا تھا، پرامن طریقے سے واپس لوٹ گیا۔ اگلے دن مولانا نے اس سیڑھی کی تعمیر پہلے سے بہتر طریقے سے کرا دی ۔
مولانا وحیدالدین خان صاحب اکثر فرماتے تھے کہ ”مسائل کے حل کی طاقت ٹکراؤ میں نہیں بلکہ اعتراف اور نرم روی میں ہے“۔ جب انسان اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے تو وہ دوسرے فریق کی انا (ego) ختم کر دیتا ہے ۔ سچے دل اور نرم انداز میں مانگی گئی معافی کسی بھی بڑے سے بڑے ہجوم کے اشتعال کو انسانی ہمدردی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ میرے ساتھ پیش آنے والا بنارس کا یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم اشتعال کے بجائے حکمت کا راستہ اختیار کریں، تو ہم نہ صرف بڑے نقصانات سے بچ سکتے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں انسانیت اور سچائی کے لیے احترام بھی پیدا کر سکتے ہیں ۔ ماہنامہ الرسالہ: صحابی رسول حبیب بن خماشہ کا قول ہے: مَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ (المعجم الاوسط للطبرانی، اثر نمبر 2258)_ یعنی جو شخص نادان کے چھوٹے شر کو برداشت نہ کرے، اس کو نادان کا بڑا شر برداشت کرنا پڑے گا ۔
مولانا وحید الدین خان صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر آپ فریق ثانی کی انا کو بھڑکانے کے بجائے ان کے ضمیر کو جگائیں تو وہ آپ کا دوست بن سکتا ہے ۔ نرمی اور سمجھداری انسانی ضمیر کو جگانے کا طریقہ ہے ۔ انسان کی انا میں نفرت اور غصے کے جذبات موجود ہوتے ہیں، لیکن وہ خوابیدہ (dormant ) ہوتے ہیں ۔ اس کو بیدار کرنا خود فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہوتا، بلکہ اکثر ہماری طرف سے ہوتا ہے ۔ ہم چاہیں تو اس کو سویا ہوا رہنے دیں، یا رد عمل کا طریقہ اختیار کر کے اسے بھڑکا دیں اور اپنے لیے پہلے سے زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر لیں ۔
مولانا بلال مدنی صاحب نے نرمی کا طریقہ اختیار کر کے فریق ثانی کے ایگو کو بھڑکنے نہیں دیا، اور نتیجتاً ایک فرقہ وارانہ فساد ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ انھوں نے گویا فریق ثانی کے چھوٹے شرکو برداشت کیا، اس لیے انھیں بڑا شر برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی ۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی کشیدہ ہوں، آپ نرمی اور تواضع کا طریقہ اختیار کر کے اس کو نارمل کر سکتے ہیں، نفرت کے ماحول کو محبت اور امن کے ماحول میں تبدیل کر سکتے ہیں، اور یہ کوئی بزدلی نہیں، بلکہ سب سے بڑی بہادری ہے ۔