محرومی، یافت
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۹
محرومی، یافت
میرے والد کا نام فرید الدین خاں تھا، وہ گاؤں میں رہتے تھے۔ وہاں ان کا انتقال 29 دسمبر 1929 کو ہوا۔ وہ چھاؤنی پر گئے ہوئے تھے۔ واپس آرہے تھے۔ یہ سخت سردی کا موسم تھا۔ اس میں ان کو اسٹر وک ہوا۔ اس کو ہم فالج کہتے تھے۔ رات کا وقت تھا وہ چلتے ہوئے گرپڑے ۔ جو مدور ان کے ساتھ چل رہے تھے اس میں ایک تھا بٹکی ۔ جب ہمارے والد گر پڑے تو بٹکی نے چلا کر اپنی دیہاتی زبان میں کہا: چاچا گر پڑ لیں ، چاچا گر پڑ لیں ۔ تو اس کے بعد چار پائی لائی گئی۔ اور ان کی باڈی کو اٹھا کر گاؤں لایا گیا۔
ہمارا گاؤں چھاؤنی سے تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ میرے والد مجھ کو بہت زیادہ مانتے تھے ۔ میں بہت زیادہ بولتا تھا ۔ زیادہ تر انہی کے ساتھ رہتا تھا۔ جب والد صاحب کی وفات ہوئی تو ان کو میں نے دیکھا کہ چار پائی پر ان کی باڈی لٹائی ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر میں ایک دم سکتے میں آگیا۔ میں رویا نہیں، مجھے رونا نہیں آیا بلکہ سکته ہوگیا۔ اس کے بعد سے میرا بولنا بند ہوگیا۔ بولنا بند ہونے کے معنی کیا تھے ۔ پہلے میں بولنے والا تھا، اب میں سوچنے والا بن گیا۔ یعنی باپ کی زندگی میں میں بہت بولنے والا تھا، مگر اب بہت سوچنے والا بن گیا۔ اس کے بعد میری حالت یہ ہوگئی کہ میں ہر وقت خاموش رہتا اور گہری سوچ میں ڈوبا رہتا۔ یعنی باپ کی ڈیتھ میرے لیے سپر شاک تھی۔ اس سے بڑا شاک میری زندگی میں کبھی پیش نہیں آیا۔
جب میں نے دیکھا کہ میرے باپ کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔ تو یہ تجربہ میرے لیے سب سے بڑی ڈسکوری بن گیا۔ کیونکہ میں نے اگرچہ شعوری طور پر نہیں ، بلکہ غیر شعوری طور پر یہ دریافت کیا کہ باپ مر گیا لیکن خدا اور رب العالمین زندہ ہے۔ اس طرح گویا مجھے ایسینس آف فادر سے پر یزنس آف گاڈ کا تجربہ ہوا۔ یہ اچانک شاک تھا، اور اس سے میرے مائنڈ نے، میری روح نے جو چیز ز ڈسکور کی، وہ تھی ایسینس آف فادر سے پر یزنس آف گاڈ کا تجربہ۔
اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ اس کے بعد میری پوری زندگی خدا کی تلاش میں ڈھل گئی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues