محرومی، یافت
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۰
میں فادر کے انتقال کے بعد ایک متلاشی انسان بن گیا۔ پہلے میں سیکر (seeker) بنا، پھر میں نے اللہ کو دریافت کیا۔ میرا سب سے بڑا تجربہ باپ کی موت تھا۔ اس کے بعد میری سب سے بڑی دریافت اللہ رب العالمین کی ڈسکوری تھی۔ یہ ڈسکوری کا جو تجربہ تھا، یہ شروع ہوا باپ کی موت کے بعد اور وہ آج تک جاری ہے۔ آج بھی جب میں سو کر اٹھا تو اسی احساس کے ساتھ اٹھا۔ یہ میری کہانی ہے۔ میری سب سے بڑی محرومی میرے تجربے کے لحاظ سے باپ کی موت تھی، مگر اس محرومی نے مجھے جس دریافت تک پہنچایا، وہ اللہ رب العالمین کی ڈسکوری تھی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت سے میں اللہ میں جینے والا بن گیا۔ پہلے میں باپ میں جینے والا انسان تھا، اس کے بعد میں اللہ میں جینے والا انسان بن گیا۔
میری روح پر اور پوری زندگی پر یہی سوچ غالب رہی اور آج بھی یہی سوچ غالب ہے۔ میری ساری کتابیں چاہے اس کا عنوان کچھ بھی ہو، لیکن ان سب کا مشتر کہ موضوع (theme) ایک ہی ہے، اور وہ اللہ رب العالمین کی معرفت ہے۔ یعنی باپ کی موت تک میرا سب کچھ میرا باپ تھا اور باپ کے انتقال کے بعد اللہ میرا سب کچھ بن گیا۔ یہ گویا ایک ٹرانسفارمیشن تھا۔ بلکہ ایک اعلیٰ قسم کا ٹرانسفارمیشن تھا۔
باپ کو لے کر سوچنے والا انسان چھ سال کی عمر میں خدا کو لے کر سوچنے والا انسان بن گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اپنی لائف لکھو، تو میری لائف تو بس یہی ہے۔ اور کیا لکھوں میں۔ یعنی باپ کا بیسینس میرے لیے گاڈ کا پر یزنس بن گیا۔ یہی میری لائف ہے۔ میرا سب سے بڑا تجربہ باپ کی موت تھی اور اس کے بعد میری سب سے بڑی ڈسکوری خدا کی دریافت بن گئی۔
اس وقت میں یوپی کے ایک گاؤں میں تھا۔ آج جو میں بول رہا ہوں تو نئی دہلی کی ایک بلڈنگ سے بول رہا ہوں، جہاں میں اس وقت رہتا ہوں۔ یہ ایک لمبا سفر ہے۔ اس سفر کی ہر صبح ہر شام ہر لمحہ اسی تجربے میں گزرا ہے۔ اور اب جب کہ میں اپنی عمر کے آخری حصے میں ہوں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ رب العالمین میری واحد دریافت ہے، اول بھی اور آخر بھی۔ یہی میرے لیے شروع بھی، یہی میرے لیے ختم بھی۔ اور اپنی زندگی کے بارے میں میرے پاس کچھ کہنے کے لیے نہیں۔ (23 نومبر 2018)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues