Al-Risala · January 2026 · page 22

اجتہاد کی ضرورت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۲۲

اجتہاد کی ضرورت

موجودہ دور گلیلیو (1642-1564) اور نیوٹن (1727-1642) سے شروع ہوا ہے۔ یہ ایک نیا دور تھا، جس کو سائنٹفک دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں نیا اجتہاد درکار تھا۔ جیسا کہ حضرت معاذ بن جبل کی حدیثِ اجتہاد (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 3592) سے رہنمائی ملتی ہے کہ نئے حالات کے مطابق اجتہاد سے کام لینا چاہیے۔ لیکن مسلمان اس نئے دور کو پہچان نہ سکے۔ اس ناواقفیت کی بنا پر وہ تبدیل شدہ حالات میں اجتہاد کا طریقہ اختیار کر کے اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی بھی نہ کر سکے۔ برعکس طور پر انہوں نے اس نئے زمانہ اور نئی تبدیلیوں کو دین کے خلاف قرار دے دیا، اور ان کے غلبہ کو ختم کرنے کے لیے پوری شدت کے ساتھ جہاد بالسیف میں مشغول ہو گئے۔ موجودہ زمانے میں اسلام یا مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہی بے خبری ہے۔ اس ناواقفیت کی بنا پر تمام مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ اسلام موجودہ زمانے میں اعداء (enemies) کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ یہ دور حدیث کے الفاظ میں تائید اسلام کا دور تھا (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔ اب ضرورت تھی کہ تائید دین کے اس واقعے کو دریافت کر کے اس کو استعمال کیا جائے، لیکن بے خبری کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمان اس نئے دور کے خلاف نفرت اور تشدد کی راہ پر چل پڑے۔ آج مسلمانوں کا اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اجتہاد کے ذریعے اپنی اس بے خبری کا خاتمہ کریں، نہ کہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف نفرت اور تشدد میں اپنی توانائیاں ضائع کریں۔

اسلام کا ایک ہی مشن ہے، اور وہ تمام انسانوں کو خالق کے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنا۔ یعنی خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک ان کی قابل فہم زبان میں پہنچانا۔ قدیم زمانے میں وقتی طور پر اس مشن کا طریق کار (method) جہاد بالسیف بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا، جس کو قرآن میں فتنہ (2:193) کہا گیا ہے۔ قدیم زمانہ جابرانہ نظام کا زمانہ تھا، اور ان لوگوں نے قائم کر رکھا تھا جن کو حدیث میں ملوک الارض (صحیح

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page