اجتہاد کی ضرورت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۲۳
البخاری، حدیث نمبر 6519) کہا گیا ہے۔ یہ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو استعمال کرتے تھے، اور انسانوں کو کسی نئے مذہب کو اپنانے کی آزادی نہیں تھی۔ رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں سے اب ملوک الارض ختم ہوگئے ۔ ان کی جگہ جمہوریت (democracy) کا دور آ گیا ہے۔ قدیم زمانے کا جبری نظام اب ختم ہوگیا۔ اقوام متحدہ (UNO) کے قیام کے بعد اب ساری دنیا میں مکمل آزادی کا زمانہ آگیا ہے۔ اب تعارفِ اسلام کا مشن بدستور جاری رہے گا، لیکن اس کا طریق کار مکمل طور پر پر امن ہوگا۔ اب دفاعی جہاد کی بھی ضرورت نہیں ، اب دفاعی جہاد بھی عملاً غیر ضروری ہوگیا ہے۔ کیونکہ جب جارحیت کا وجود نہ ہوگا، تو کس کے خلاف جہاد بالسيف ہوگا۔ موجودہ دور مکمل طور پر ایک پر امن دور (peaceful age) ہے ۔ وہ تمام مقصد جس کے لیے قدیم زمانے میں لڑائی کی جاتی تھی، بغیر جنگ کے پرامن طریقے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ اب صرف وہی لوگ جنگ کی بات کرتے ہیں، جو زمانے کی اس تبدیلی سے بے خبر ہیں۔ اسلام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ لوگوں کو توحید اور آخرت سے باخبر کیا جائے ۔ اس مقصد کو پھیلانے کے لیے اب کوئی بھی رکاوٹ حقیقتاً موجود نہیں ۔ اب اگر کوئی لڑائی کی بات کرتا ہے تو اس کا معاملہ ”آبیل مجھے مار “ کا مصداق ہے۔
اجتہاد عملاً ایک متروک سنت بنی ہوئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے علما نے خود ساختہ طور پر اجتہاد کو ایک مقدس شرعی مسئلہ بنا دیا ہے۔ حالانکہ اجتہاد کا تعلق ایک عملی ضرورت سے ہے۔ مثلاً جب دنیا میں بحری سفر سے ہوائی سفر کا دور شروع ہوا تو یہ اجتہاد کا معاملہ ہے جو کہ حج کے سفر کے لیے اختیار کیا گیا ۔ بدقسمتی سے یہی طریقہ دوسرے معاملات میں نہیں اختیار کیا گیا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام معاملات اسی لیے غیر حل شدہ پڑے ہوئے ہیں ۔ کیوں کہ جس طرح انھوں نے سفر حج کے معاملے میں اجتہاد کا طریقہ اختیار کیا اسی طرح دوسرے معاملے میں اجتہاد کا طریقہ اختیار نہیں کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues