Al-Risala · July 2026 · page 13

پازیٹو اثر لینا

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۳

پازیٹو اثر لینا

پیغمبرِ اسلام ﷺ کے زمانے میں کئی غزوات پیش آئے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو احد کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں میں سے ستر آدمی مارے گئے تھے، اور ستر زخمی ہوئے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ بھی زخمی ہو گئے تھے۔ اس مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی: فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ (3:153)۔ یعنی، پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تا کہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ اس موقع پر قرآن میں یہ نصیحت کی گئی، تا کہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی۔ So that you might not grieve for what you lost. یہاں رنجیدہ برائے رنجیدہ نہیں ہو سکتا۔ ضرور ہے کہ رنجیدہ نہ ہونے کا کوئی مثبت مقصد ہو۔ وہ مقصد یہ ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر جو کچھ پیش آیا، وہ بظا ہر ایک منفی واقعہ تھا، لیکن تم کو چاہیے کہ اس منفی واقعہ کو مثبت تجربہ میں بدلو۔ ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ لوگ پوری طرح غیر متاثر ذہن کے تحت پورے معاملے پر سوچیں، اور خالص سوچ کے ذریعے اس نتیجے تک پہنچیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ وہ نئی زندگی کا آغاز ہے۔

مصیبت پر رنجیدہ نہ ہونا، کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی اپنی جسمانی مصیبت کو ذہنی مصیبت نہ بنائے ۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو کچھ اس سے چھن گیا ہے، اس کے غم میں اپنا یہ حال کر لے کہ جو کچھ اب بھی اس کے پاس باقی ہے، وہ اس سے غافل ہو جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کو فراموشی کے خانے میں ڈالے، اور جو کچھ اب بھی اس کے پاس بچا ہوا ہے، اس کو لے کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ اس دنیا میں ہر ایک کو نقصان کا تجربہ ہوتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو باقی ماندہ امکانات کو جانے، اور اس کی بنیاد پر اپنے لیے نئی زندگی کی تعمیر کرے۔ اسی کا نام دانش مندی ہے، اور یہی دانش مندی اس دنیا میں کامیابی کا حقیقی راز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page