Al-Risala · July 2026 · page 12

خدا کی نشانیاں

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۲

فورس سے کنٹرول ہورہی ہے۔ اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے کامل طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ کائنات کی اس عالمی ہم آہنگی پر تمام سائنس داں حیرت زدہ ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس غیر معمولی ہم آہنگی کی توجیہ کس طرح کی جائے۔

ان ’’مشینوں‘‘ پر بظاہر ان کے خالق کا ٹھپہ نہیں لگا ہوا ہے، مگر اپنی غیر معمولی بناوٹ اور ناقابل بیان حد تک ممتاز کارکردگی کی وجہ سے وہ اپنی ساخت کا آپ اعلان ہیں۔ مخلوقات خود اپنے خالق کو بتا رہی ہیں۔ کائنات میں موجود حیرت انگیز ڈیزائن ، بے پناہ نظم، انتہا درجے کی معنویت اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ یہ کائنات ایک ذہین قادرِ مطلق خدا کے چلانے سے چل رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پوری کائنات ایک لمحے کے اندر منتشر ہو کر رہ جائے۔ کائنات کے اندر یہ کامل ہم آہنگی صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اٌس کا ناظم اپنے اندر اعلیٰ درجہ کی ذہانت اور قدرتِ کاملہ کی صفت رکھتا ہو۔ کائنات کی کسی چیز کے اوپر لفظوں میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ اس کو کس نے بنایا۔ مگر معنوی طور پر ہر ایک کے اوپر لکھا ہوا موجود ہے۔ تخلیق کے ہر جز ء پر خالق کی اسٹیمپ (stamp) لگی ہوئی ہے۔ اگر دیکھنے والی نگاہ ہو تو آدمی ہر چیز کو دیکھ کر پکار اٹھے گا: بلاشبہ یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ کوئی دوسرا اس کو بنا نہیں سکتا۔ ایک جرمن سائنس داں پروفیسر کارل ٹرال (1975-1899) نے کہا۔ میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنٹسٹ اور جغرافیہ داں یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گزار ہو گیا ہوں: "The fruit of my life as a scientist and geographer is to have become more and more deeply grateful to our Creator."

کسی شخص کا اصل معبود وہی ہے جس کو اس نے اپنے حبِ شدید کا مرکز بنایا۔ جس نے کسی کو اپنے قلبی تعلق کا تحفہ دیا، وہی اس کا معبود ہے۔ ایسا آدمی اگر زبان سے اللہ کو اپنا معبود بتاتا ہے، لیکن اس کا قلبی تعلق کسی اور سے ہے تو وہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف، 61:2) کا مصداق ہے۔ یعنی، قلبی تعلق کسی اور کو دینا، اور زبان سے اللہ کو اپنا معبود بتانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page