Al-Risala · July 2026 · page 19

مبنی بر خوف، مبنی بر فخر

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۹

کرے۔ مجیب کا جواب ایسا ہونا چاہیے کہ اگر وہ آپ کے جواب سے اتفاق نہ کرے، تب بھی آپ کے جواب میں اتنا وضوح ہونا چاہیے، کہ سامع اس کو بخوبی طور پر سمجھ جائے۔ اسی کو کہتے ہیں کہ جواب ہونا چاہیے جو سائل کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔

مبنی بر خوف، مبنی بر فخر

اسلام کے ماننے والوں کا دین اگر خوف خدا اور مسئولیت (accountability) پر قائم ہو، تو وہ صراط مستقیم پر ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں اسلام اپنی حقیقی صورت میں قائم رہتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ان کا دین فخر (pride) پر قائم ہو جائے تو وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کا اسلام قومی اسلام بن جاتا ہے۔ وہ اس اسلام سے دور ہو جاتے ہیں جو اللہ تعالی کو مطلوب ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اصحاب رسول کا نمونہ، اسلام کی حقیقی صورت کو بتاتا ہے۔ اصحاب رسول کا اسلام خوف خدا کی اسپرٹ پر قائم تھا۔ اسی لیے اسلام میں ان کو ماڈل کا درجہ حاصل ہے (القدوة ھم)۔ بعد کے زمانے میں جب مسلمانوں کی تعداد بڑھی اور دنیا میں ان کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا، اس وقت سے مسلمانوں کے مزاج میں آہستہ آہستہ ایک تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اب یہ ہوا کہ جو مسلم مائنڈ پہلے خوف خدا کے مزاج سے بنا تھا، وہ مسلم مائنڈ اب فخر کے مزاج کے تحت بننے لگا۔ اس طرح بعد کے مسلمان اپنی سیاسی عظمت (political glory) میں جینے لگے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ عام طور پر فخر کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ وہ اسلام کو اپنے لیے فخر کا عنوان بنائے ہوئے ہیں۔ یہ اسلام، مسلمانوں کی سیاسی تاریخ سے ماخوذ اسلام ہے، وہ خود اسلام سے ماخوذ اسلام نہیں۔ ایسے مسلمانوں کو صرف ایک ہی چیز کی طرف رغبت ہوتی ہے۔ اور وہ ہے، عہد رفتہ (past) کی عظمت کا تذکرہ کرنا یا اس کی طرف واپسی کی مہم چلانا۔ مگر فخر پر مبنی اسلام کی خدا کے یہاں کوئی حیثیت نہیں۔ خدا کے یہاں مقبول اسلام وہ ہے، جو خدا کے ساتھ محبت اور خوف کے احساس پر قائم ہو، جو خدا کی دریافت پر مبنی ہو، نہ کہ سیاسی عظمت کی دریافت پر۔ سچا اسلام وہ ہے، جو آدمی کے لیے اس کے دل کی تڑپ بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page