مبنی بر مسائل، مبنی بر مواقع
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۰
مبنی بر مسائل، مبنی بر مواقع
مریم جمیلہ (Margret Marcus) امریکا کے ایک یہودی خاندان میں 1934ء میں پیدا ہوئیں، اور 2012ء میں پاکستان میں ان کی وفات ہوئی۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے 1961ء میں انھوں نے اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ پاکستان آگئیں، اور وہاں انھوں نے ایک پاکستانی مسلمان، محمد یوسف خان سے شادی کی۔ ان کے متعلق ماہنامہ زندگی نو، جنوری 2017 میں ایک مفصل مضمون ”مریم جمیلہ : مغربی فکر و تہذیب کی بے باک ناقدہ“ شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (1979-1903) کے ساتھ اپنے استفادہ کا واقعہ مریم جمیلہ نے یوں بیان کیا گیا ہے:
میرے خان صاحب (شوہر) مجھے عصر کے وقت سید مودودی کے گھر (روزانہ) باقاعدگی کے ساتھ لے جاتے تھے۔ میں وہاں رات کا کھانا کھاتی، اور مغرب سے عشاء تک مولانا مودودی اور میں باہم مختلف معاملات پر گفتگو کرتے رہتے۔ ہر بحث تمام موضوعات پر مشتمل ہوتی۔ زیادہ تر وقت ہم پاکستان میں سیاسی صورت حال اور مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں معاندانہ حکومتوں کے تحت اسلامی تحریکات کی حالت زار پر بحث کرتے۔ (صفحہ 82)
مریم جمیلہ کا کیس بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں کی وہ کون سی فکری غلطی تھی، جس نے موجودہ زمانے کے قیمتی مواقع کو غیر استعمال شدہ مواقع (unavailed opportunities) بنا کر رکھ دیا، اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ وہ مواقع کے انفجار (explosion) کے زمانے میں صرف نفرت اور تشدد میں جینے والے بن کر رہ جائیں۔
اندازہ یہ ہے کہ استفادہ کی یہ مدت مولانا مودودی صاحب کی وفات تک جاری رہی۔ اس اعتبار سے استفادہ کی یہ مدت تقریباً پندرہ سال پر محیط ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے تقریباً
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues