منفی ذہن کا قاتل
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۸
منفی ذہن کا قاتل
ایک مومن جب قرآن کو پڑھتا ہے ۔ اور اس پر غور کرتا ہے ، یا جب وہ سفر کرتا ہے ۔ اور سفر کے دوران وہ معرفت کا رزق حاصل کرتا ہے ۔ اور اس طرح کے دوسرے افعال جو وہ صبح شام کرتا ہے ، یہ سب کچھ اُس انفراسٹرکچر کی مدد سے ہوتا ہے جو جدید ٹکنالوجی کے ذریعے وجود میں آیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ جدید انفراسٹرکچر کس نے تیار کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب زیادہ تر غیر اہل ایمان نے تیار کیا ہے ۔ یہ لوگ مادی ترقی کے میدان میں مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ اسی بنیاد پر ایک مومن کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس انفراسٹرکچر کو استعمال کرکے اپنے دینی ارتقا کا سامان کرسکے ۔ گویا یہ لوگ اہل ایمان کو مادی ترقی کی جدوجہد سے بے نیاز کیے ہوئے ہیں ۔ وہ خاموش زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ تم اپنا دینی کام کرو ، ہم تمہارے حصے کا مادی کام انجام دیتے رہیں گے ۔ ایسا کرتے ہوئے اگر وہ کچھ مالی یا سیاسی فائدہ حاصل کر رہے ہیں ، تو گویا وہ ان کے عمل کے لیے محرک ( incentive ) کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگر یہ محرک موجود نہ ہو تو وہ ہماری مادی تائید کا کام بھی انجام نہ دیں ۔
تائید کا یہ معاملہ ہر انسان کے ساتھ ہر سطح پر پیش آرہا ہے ۔ ہر ایک کی زندگی میں دوسرے لوگ بڑے پیمانے پرکنٹری بیوشن (contribution) دے رہے ہیں— ہوم کنٹری بیوشن، سوشل کنٹری بیوشن، نیشنل کنٹری بیوشن ، انٹرنیشنل کنٹری بیوشن ، سوئیلائزیشن کنٹری بیوشن ۔ کنٹری بیوشن کا یہ کام زیادہ تر مادہ پرست لوگ انجام دے رہے ہیں ۔ اس طرح وہ اہل دین کو فارغ کر رہے ہیں کہ وہ پوری طرح یکسو ہو کر اپنے دینی امور کو انجام دیتے رہیں ۔
اہل دین کو اگر اس حقیقت کا زندہ شعور حاصل ہو جائے تو ان کے منفی ذہن کا کلی خاتمہ ہو جائے ۔ ان کو معلوم ہو جائے کہ وہ بالواسطہ طور پر ہماری بہت بڑی تائید کر رہے ہیں ۔ انہوں نے ہم کو فارغ کر رکھا ہے کہ ہم پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے دینی کام کو انجام دیتے رہیں ۔ اس کے بعد اہل دین کے اندر منفی ذہن کا خاتمہ ہو جائے ۔ وہ نفرت کے بجائے ان سے محبت کرنے لگیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues