Al-Risala · July 2026 · page 27

جدید اسلامی لٹریچر

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۷

مسٹر اسٹیو اسکلر کی مذکورہ نشاندہی بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید قومیں ہمارے مسلم رہنماؤں کے لیے نفرت اور حقارت کا موضوع بن گئیں۔ یہ ذہن اتنا عام ہوا کہ مسلمانوں کی غیر سیاسی شخصیتیں بھی اس نفسیات سے محفوظ نہیں رہیں۔ اس کی عبرت ناک مثال وہ ہے جس کو مولانا سعید احمد اکبر آبادی (1985-1908) نے نقل کیا ہے۔

مولانا ابو البرکات عبد الرؤف دانا پوری نے سیرت نبوی پر اپنی کتاب ”اصح السیر“ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ چوں کہ طبقات ابن سعد کو ایک عیسائی نے ایڈٹ کیا اور چھاپا ہے اور اس نے ضرور کتاب کے اصل مخطوطہ میں رَد و بدل کیا ہوگا۔ اس لیے میرے نزدیک وہ معتبر اور قابل استناد نہیں ہے۔ اصح السیر میں یہ بات پڑھ کر مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے مولانا حبیب الرحمن الاعظمی کی طرف رجوع کیا، جن کی نظر مخطوطات پر بڑی وسیع اور عمیق ہے۔ مولانا اعظمی نے جواب میں تحریر فرمایا کہ طبقات ابن سعد کا ایڈیشن جس مخطوطہ پر مبنی ہے، اس کو میں نے دیکھا اور مطبوعہ ایڈیشن اور مخطوطہ دونوں کا حرفاً حرفاً مقابلہ کیا ہے اور کہیں ایک حرف کا فرق بھی نہیں پایا ہے ۔ (ماہنامہ برہان، دہلی، جون 1982)

اس نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ جدید اسلوب یا جدید معیار ادب کو سمجھیں، جن کو پیدا کرنے والی خود یہی مغربی قومیں تھیں۔ جدید قوموں سے نفرت مسلمانوں کے لیے اس میں مانع ہوگئی کہ وہ جدید اسلوب کو سمجھیں، اور اس میں مہارت پیدا کرکے لسان قوم میں اسلامی ہمارا مشن ہمارا مشن ہے گلوبل انفراسٹرکچر کو اویل کر کے تمام انسانوں تک خدائی پیغام پہنچانا۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہمارے دل میں کسی کے خلاف شکایت نہیں ہے۔ اگر آپ کا دل شکایت سے خالی ہو تو آپ گلوبل آؤٹ سورسنگ کے چیمپئن بن جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page