Al-Risala · July 2026 · page 30

ظلم کے خلاف مزاحمت

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۰

ظلم کے خلاف مزاحمت

قرآن میں زندگی کی ایک حقیقت کو تکرار کے ساتھ دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ٥ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:5-6)۔ یعنی، پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ عسر اور یسر دونوں اس دنیا میں لازم وملزوم ہیں، یعنی یسر کا دامن عسر کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے ایک لفظ کا بہت استعمال کرتے ہیں، وہ ہے ظلم کے خلاف مزاحمت۔ یہ لفظ کسی نہ کسی طور پر لمبی مدت سے دہرایا جا رہا ہے۔ لیکن حاصل کچھ نہیں۔ مزید یہ کہ ظلم کے خلاف مسلمانوں کی شکایتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس چیز کو ظلم کہا جاتا ہے، وہ عسر کا حصہ ہے۔ اس کے خلاف جو چیز تلاش کرنے کی ضرورت ہے، وہ یسر، یعنی مواقع اور پازیٹیو پوائنٹ کو تلاش کرنا۔ یعنی عسر میں جویسر چھپا ہوا ہے، اس کو تلاش کیا جائے، نہ کہ ظلم کے خلاف ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنا۔ یہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے کہ اس دنیا سے ظلم یا عسر کبھی ختم ہو۔

یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ عسر میں یسر کو تلاش کرے، تو اس کے لیے یسر نیا راستہ کھول دیتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنے مثبت ذہن کے ساتھ عسر میں یسر کو دریافت کرنے کی کوشش کرے۔

آدمی جب ظلم کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، تو اس کو کیا ملتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو صرف نفرت اور تشدد اور منفی سوچ جیسی چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ وہ اپنی تعمیری قوت کو کم کر کے قوت غضب کو بڑھا لیتا ہے۔ اس کے برعکس، آدمی جب مواقع کو تلاش کرے، تو اس کو کیا ملتا ہے۔ مواقع کو دریافت کرنے کے ذہن سے سوچے تو اس کے اندر مثبت سوچ جاگتی ہے۔ وہ ناکامی کے بعد اپنا احتساب کر کے کامیابی کو تلاش کرتا ہے، وہ دوسروں کے خلاف چیخ و پکار کرنے کے بجائے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page