بے مسئلہ انسان
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۱
خود اپنے اندر چھپے ہوئے امکانات کو ڈھونڈتا ہے، اس طرح آدمی کے اندر ایک مثبت سوچ جاگتی ہے ۔ جو آخر کار اس کو کامیابی تک پہنچادیتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ حالات زار یا ناموافق حالات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہمارے لیے موافق نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے ۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ (90:4) یعنی، ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات (hardship) انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ وہ ہمیشہ موجود رہیں گے ۔ اسی وجہ سے انسان کسی حال میں اپنے آپ کو مشقتوں سے آزاد نہیں کر پاتا ہے۔ ایسی حالت میں مشکلات کے حوالے سے سوچنا بجائے خود درست نہیں۔
انسان کو کبد (عسر) کے اندر پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبد زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ کبد کو لے کر اپنی زندگی کا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ کبد کے اندر جو موافق حالات موجود ہیں، ان کو لے کر اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ انسان کا منصوبہ مبنی برغیر موافق حالات نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مبنی بر موافق حالات ہونا چاہیے۔ یعنی غیر موافق پہلوؤں کے درمیان موافق پہلوؤں کو دریافت کرنا۔
بے مسئلہ انسان
جب آدمی سوسائٹی میں رہتا ہے تو اس کے لیے صحیح یہ ہے کہ وہ بے مسئلہ انسان بن کر رہے۔ بے مسئلہ انسان (no problem person) بننے کا اصول یہ ہے کہ آدمی کے اندر قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) موجود ہو ۔ یعنی دوسرا آدمی یہ جانے کہ اس کا سلوک آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔ مثلاً آپ کسی دکان دار سے کوئی چیز خرید رہے ہیں تو دونوں فریق پہلے سے یہ جانتے ہوں کہ ایک دوسرے کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا۔ اسی طرح کسی معاملے میں آدمی کا رد عمل کیا ہوگا، اگر یہ بات پہلے سے معلوم ہو تو ہر فریق اپنا جوابی رد عمل بھی پہلے سے طے کر سکتا ہے، اور غیر ضروری رد عمل سے بچتے ہوئے اپنا کام انجام دے سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues