معاش کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۶
معاش کا مسئلہ
آج کل اکثر لوگ معاشی مسائل کی بات کرتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ مسئلے کی بات نہیں ہے، بلکہ خود زمانے سے بے خبری کی بات ہے۔ موجودہ زمانہ انفجارِ روزگار کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کی اتنی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں کہ (explosion of job) یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ آدمی واقعی طور پر روزگار چاہے، اور اس کو روزگار نہ ملے۔ قدیم زمانہ زراعت کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں صرف کھیت کے کچھ کام ہوا کرتے تھے۔ اب صنعت (industry) اور سروس کا زمانہ ہے۔ اس طرح موجودہ زمانے میں بے شمار نئے کام پیدا ہوگئے ہیں۔ اس زمانے میں بے روزگاری کی شکایت کرنے والے عام طور پر وہ لوگ ہوتے، جو کہتے ہیں کہ میں صرف اسی کام کو انجام دوں گا جو میرے طے کیے ہوئے معیار کے مطابق ہو، اور جو میرے معیار کے مطابق نہ ہو، میں اس کو انجام نہیں دوں گا۔ مگر یہ ایک قسم کا انیکرونزم (anachronism) ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم ایک بے حد محدود دائرے کا نام تھی۔ اب تعلیم ہزاروں قسم کے نئے شعبوں کا نام بن گئی ہے۔ قدیم زمانے میں ہنر اور مزدوری میں کوئی فرق نہیں ہوا کرتا تھا۔ موجودہ زمانے میں ہنر ایک مستقل ذریعہ معاش بن گیا ہے۔ بے شمار قسم کے نئے نئے ہنر پیدا ہوگئے ہیں، اور ان کو سیکھ کر اکثر لوگ ان سے بھی زیادہ کمائی کر رہے ہیں، جتنا کہ ڈگری والے کمائی کرتے ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نوجوان ہیں، جو غریب گھروں میں پیدا ہوئے، ان کے ماں باپ کے پاس تعلیم کی فیس ادا کرنے کی رقم موجود نہ تھی۔ ایسی نوجوانوں نے چھوٹے چھوٹے کام پکڑ لیے، اور غربت کے باوجود اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ مثلاً کوئی نوجوان گھر گھر اخبار پہنچانے لگا، کسی نوجوان نے ہر گھر انڈا اور چائے اور شکر جیسی چیزیں پہنچانے کا کام شروع کر دیا۔ اس طرح انھوں نے اپنی پڑھائی کو جاری رکھا، یہاں تک کہ کچھ سالوں کے بعد ڈگری والی تعلیم حاصل کرلی، اور اب وہ کسی آفس میں جاب حاصل کر کے سماج میں باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues