ریزرویشن کا طریقہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۷
ریزرویشن کا طریقہ
ایک مرتبہ مسلمانوں کی ایک میٹنگ میں شریک ہوا۔ اس میں نہایت دھوم کے ساتھ ریزرویشن کے اصول کی وکالت کی جارہی تھی۔ یعنی تعلیم اور ملازمت میں مسلمانوں کو ان کے عددی تناسب کے اعتبار سے محفوظ سیٹوں کا دیا جانا۔ کہنے والے کہہ رہے تھے کہ مسلمان اس ملک میں ترقی میں پچھڑ گئے ہیں، ان کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کور یزرویشن دیا جائے، ریزرویشن کے بغیر وہ آگے بڑھنے میں ناکام رہیں گے۔ ایک صاحب نے یہاں تک کہہ دیا کہ تیس سال تک دوسروں کو مواقع دینے کا طریقہ بند کر دیا جائے، اور صرف مسلمانوں کو موقع دیا جائے۔ یہ طریقہ اس وقت تک جاری رہے، جب تک مسلمان دوسری کمیونٹی کے برابر نہ ہو جائے۔ یہ سوچ انتہائی حد تک غیر عملی ہے۔ آپ سڑک کی سیاست خواہ کتنی ہی زیادہ چلائیں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ نام نہاد پسماندہ طبقوں کور یزرویشن دے کر ترقی کے راستے پر لگادیا جائے۔ یہ اصول کے اعتبار سے خواہ کیسا ہی ہو، لیکن ترقی کے اعتبار سے وہ سراسرنا قابل عمل اصول ہے۔ ریزرویشن کے ذریعے ترقی پانا ایسا ہی ہے، جیسے ترقی پانے کے لیے خوش خیالی (falsehood) میں جینا۔ ریزرویشن نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیچھے ہونے والوں کو ہمیشہ کے لیے پیچھے کر دیا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پچھڑ گئے ہیں، ان کو دوسرا چانس دینا۔ یعنی ان کو یہ موقع دینا کہ وہ مزید محنت کر کے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب افراد کی فہرست میں شامل کریں، اور اس طرح ترقی کے میدان میں اپنا سفر جاری رکھیں۔ اگر آپ ترقی کی دوڑ میں پہلی بار آگے نہ آسکے، تو آپ کے لیے دوسرا موقع (second chance) اب بھی موجود ہے۔ آپ رعایت کے غیر عملی مطالبے میں وقت ضائع نہ کریں، بلکہ دوبارہ محنت کر کے سیکنڈ چانس کو اویل کریں۔ آپ کے لیے یہی واحد قابل عمل صورت ہے۔ دوسری کوئی صورت سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ زندگی کا اصول ہے — ناممکن کو چھوڑ کر ممکن کے پیچھے دوڑنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues