Al-Risala · July 2026 · page 40

زندگی کا معاملہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۰

زندگی کا معاملہ

بازار میں تمام چیزیں ضروری قیمت دینے کے بعد ملتی ہیں۔ بازار کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے ـــ جتنا دینا، اتنا پانا، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ یہی اصول پوری انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ تم دنیا کو اپنا بہترین دو، اور تمہاری طرف بھی دنیا کا بہترین واپس آئے گا :

اگر آپ لوگوں کے خیر خواہ ہوں تو لوگ بھی آپ کے خیر خواہ ہوں گے۔ اگر آپ لوگوں سے میٹھا بول بولیں تو لوگوں کی طرف سے بھی آپ کو میٹھے بول کا تحفہ ملے گا۔ آپ لوگوں کے ساتھ محبت کرنے والے بنیں تو لوگ بھی آپ کے ساتھ محبت کرنے والے بن جائیں گے۔

یہ دنیا لین دین کی دنیا ہے۔ یہاں آدمی وہی پاتا ہے جو اس نے دوسروں کو دیا ہو۔ یہاں دوسرے لوگ کسی آدمی کے لیے وہی کچھ ثابت ہوتے ہیں جو کہ وہ خود دوسروں کے لیے ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اچھا ماحول پانا آدمی کے اپنے اختیار میں ہے۔ آپ دوسروں کے دوست بن جائیے، اس کے بعد آپ کو بھی دوستوں سے بھرا ہوا ماحول مل جائے گا۔ آپ دوسروں کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کیجئے، اس کے بعد آپ بھی اپنے گردو پیش ایسے پڑوسی پالیں گے جو آپ کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کریں۔ آپ دوسروں کو فائدہ پہنچائیے، اس کے بعد آپ کو بھی زندگی گزارنے کے لیے ایسی دنیا مل جائے گی جہاں ہر ایک آپ کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہوگا۔

اگر آپ پھول بن کر رہنا جانتے ہوں تو آپ خود بخود اپنے رہنے کے لیے پھولوں کی کیاری پالیں گے۔ اور اگر آپ کے وجود کے ساتھ کانٹے لگے ہوئے ہوں تو اس کے بعد آپ کو زندگی گزارنے کے لیے جو دنیا ملے گی وہ صرف کانٹوں کا جھاڑ جھنکاڑ ہوگا۔ (الرسالہ، جون 1994)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page