Al-Risala · July 2026 · page 41

تربیتِ اولاد

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۶، صفحہ ۴۱

تربیتِ اولاد

میرے گھر کے سامنے ایک پارک ہے، جہاں لوگ چہل قدمی (walking) کے لیے آتے ہیں۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ پارک میں آئی۔ بیٹے کی عمر تقریباً آٹھ سال لگ رہی تھی۔ خاتون کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کا بیٹا سائیکل چلا رہا تھا، اور وہ اس کے ساتھ ساتھ تیزی سے چل رہی تھی تا کہ وہ اپنے بیٹے کو گرنے سے بچائے ، یا اگر وہ گر جائے تو اسے فوراً اٹھا سکے۔

ماں بظاہر بیٹے کی ہمدردی میں ایسا کر رہی تھی، مگر نفسیاتی تشکیل کے اعتبار سے وہ اس کے ساتھ ہمدردی نہیں، بلکہ اس کا نقصان کر رہی تھی۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی نقصان تھا جسے نفسیات کی اصطلاح میں Elephant Rope Syndrome کہا جاتا ہے۔

یہ ایک نفسیاتی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچپن میں ہاتھی کو ایک مضبوط رسی یا زنجیر سے باندھا جاتا ہے۔ وہ بار بار کوشش کرتا ہے کہ زنجیر توڑ کر آزاد ہو جائے ، لیکن ناکام رہتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے شعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ کبھی اس کو توڑ کر آزاد نہیں ہو سکتا۔ بعد میں جب وہ بڑا اور طاقتور ہو جاتا ہے تو برعکس طور پر اس کو ایک معمولی رسی سے باندھا جاتا ہے، جس کو وہ آسانی سے توڑ سکتا ہے۔ مگر وہ اس کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ یقین بیٹھ چکا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندھن سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ Baby Elephant Syndrome is where a baby elephant is tied to a strong rope or chain at a young age and is unable to break free of the constraint. When the elephant matures, the elephant has grown strong enough to uproot trees and surely break the rope, but the elephant has been conditioned to accept this constraint. Even if a weak rope is used, the elephant will not attempt to break free. The constraint is now in the mind of the elephant opposed to an actual physical constraint.

‹ Previous page Next page › Contents of July 2026 All issues

Printed page