قساوت کیا ہے
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۲۶
قساوت کیا ہے
قرآن کی سورۃ الحدید میں اہل ایمان کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِيْنَ آمَنُو ا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ (57:16) ۔ یعنی، کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے ۔ اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں کسی امت کی اُس حالت کو بیان کیا گیا ہے، جو کہ امت کی کئی نسلیں گزرنے پر بعد کے لوگوں میں لازماً پیدا ہوتی ہے۔ اس حالت کا دوسرا نام زوال (degeneration) ہے۔ کسی امت پر جب زوال آتا ہے تو لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں۔ دل کی اس سختی (قساوت) کو قرآن میں سورۃ البقرۃ میں پتھر کی حالت سے تعبیر کیا گیا ہے (2:74)۔ قساوت کیا ہے۔ وہ دراصل دینی اعتبار سے افرادِ امت کا بے روح (spritless) ہو جانا ہے۔ بعد کی نسلوں میں جب زوال کی یہ حالت آتی ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ دین سے علاحدگی کا اعلان کر دیں ، بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کی دین داری محض ظاہری فارم (form) تک محدود ہو جاتی ہے۔ جہاں تک داخلی روح کا تعلق ہے، وہ ان کے اندر موجود نہیں ہوتی۔ امت کی بعد کی نسلوں میں زوال کی یہ حالت فطرت کے ایک قانون کے تحت ظہور میں آتی ہے۔ زوال کے اس واقعے کا پیش آنا کوئی غیر فطری بات نہیں ہے۔ اصل برائی یہ ہے کہ جب زوال کی یہ حالت پیش آئے تو اُس وقت اس کی اصلاح کی صحیح تدبیر نہ کی جائے ۔ بروقت صحیح تدبیر سے امت دوبارہ اپنی اصل مطلوب حالت پر قائم ہو سکتی ہے، لیکن اگر بروقت صحیح تدبیر نہ کی جائے تو اس کے بعد قساوت کی حالت باقی رہتی ہے۔ جو آخر کار فسق ، تک پہنچ جاتی ہے، یعنی پوائنٹ آف نورتَرن (point of no return) تک ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues