Al-Risala · January 2026 · page 25

کیوں یہ عمومی بے خبری

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۲۵

شخص کو تر و تازہ رکھے جو میری بات سنے، اسے یاد رکھے، محفوظ کرے اور دوسروں تک پہنچائے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی صاحبِ فہم ہو، اور وہ میری بات اُس تک پہنچائے جو اس سے زیادہ گہری سمجھ کا حامل ہو۔ زیادہ گہری سمجھ کا حامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین کو زیادہ گہرائی کے ساتھ اور اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق بہتر طور پر سمجھے گا۔ یعنی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فہمِ دین کے معاملے میں جمود ایک نامحمود عمل ہے۔ مسلم تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے میں انا قائم الزمان، اور جدید دور میں مجدد کامل جیسے الفاظ تو بولے گئے، لیکن ان الفاظ کا مصداق حقیقی طور پر پیش نہ کیا جا سکا۔ اس کی وجہ شخصی تقدس کا وجود میں آنا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پچھلے عمل کا از سر نو جائزہ (reassessment) کریں، اور جو کام رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں شروع ہوا، مگر درمیانی ادوار میں جا کر رک گیا تھا، اس کو دوبارہ شروع کریں۔ یعنی قرآن کی آیتوں کا دوبارہ یونیورسل یا اجتہادی نقطہ نظر سے مطالعہ کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا نظام اجتہاد کے بغیر نہیں چل سکتا، اور اجتہاد اختلافِ رائے کے بغیر ممکن نہیں۔ جہاں اختلافِ رائے نہ ہو، وہاں جمود ہوگا، اور ذہنی جمود در حقیقت ذہنی موت ہے، جس کے بعد حقیقی ترقی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ تقدیس اکابر کا نظریہ انسان کو اختلافِ رائے سے روک دیتا ہے۔ حالانکہ یہی اختلافِ رائے اجتہاد کا دروازہ ہے، وہ انسان کے اندر یونیور سل اپروچ پیدا کرتا ہے۔

اختلافِ رائے کا اظہار ہمیشہ تنقید (criticism) کی صورت میں ہوتا ہے۔ مگر تنقید خواہ وہ کسی شخص کے حوالے سے کی گئی ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطالعے کی ایک صورت ہوتی ہے۔ تنقید کا اصل مقصد کسی موضوع پر کھلے تبادلہ خیال (open discussion) کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ تنقید کا مقصد یہ ہے کہ مختلف ذہن (mind) دیانت دارانہ طور پر ( intellectual honesty) اپنے نتیجہ تحقیق کو بتائیں اور پھر دوسرے لوگ دیانت داری کے ساتھ اُس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اس طرح کا آزادانہ تبادلہ خیال اجتہاد کا بنیادی تقاضا ہے۔ آج اب ضرورت ہے کہ قرآن کو اس کی ابدی حقیقت کے اعتبار سے پڑھنے کا طریقہ اختیار کیا جائے، تاکہ ہمیں ان تمام معاملات میں ربانی رہنمائی حاصل ہو سکے جس کی موجودہ دور میں سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page