انسان، اعلیٰ انسان
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۳۲
میں جب واچ مین کو حقیقت معلوم ہوئی تو اس کو لگا کہ اب اس کی نوکری چلی جائے گی، مگر مسٹر پاریکر نے اس کی ہمت افزائی کی، اور کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
ایک مراٹھی نیوز ویب سائٹ PuneriSpeaks نے 17 مارچ 2019 کو ان کو یاد کرتے ہوئے حسب ذیل باتیں لکھی ہیں :
مسٹر منوہر پاریکر ہمیشہ اپنے اسکوٹر پر وزارتِ اعلیٰ کی آفس جاتے تھے۔ ایک سادہ زندگی گزارنے والے منوہر پاریکر کی یہی پہچان تھی۔ اپنی اسکوٹر پر ہیلمٹ پہن کر وہ پنچی میں چکر لگاتے ہوئے وزارت پہنچا کرتے تھے۔ باقی وزرائے اعلیٰ کی طرح کبھی ان میں دکھاوا نہیں تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ منوہر پاریکر کو سادہ طرزِ زندگی پسند تھا۔ اسی لیے وہ مشہور بھی تھے۔ اچانک کسی عام ہوٹل میں کھانا کھانے چلے جانا، عام لوگوں کی طرح اسکوٹر پر گھومنا ان کے لیے معمول تھا۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، منوہر پاریکر ہمیشہ کی طرح صبح صبح اپنی اسکوٹر پر جارہے تھے۔ راستہ میں ٹریفک کی بھیڑ کم تھی۔ ایک ٹریفک سگنل پر ان کے پیچھے ایک لڑکا انتہائی تیزی سے آڈی کار چلاتا ہوا آیا، اس کو یہ لگا کہ منوہر پاریکر سگنل پر نہیں رکیں گے، مگر نظم و ضبط کے پابند پاریکر سگنل پر رک گئے۔ اچانک رکی اسکوٹر کی وجہ سے آڈی ڈرائیور گھبرا گیا۔ زور سے بریک لگاتے ہوئے بڑی مشکل سے گاڑی روکی، اور انتہائی غصے کے ساتھ منوہر پاریکر سے بولا: کہاں بیچ راستے میں رک گیا ہے، ایک طرف ہو جا، تجھے معلوم نہیں میں کون ہوں، میرا باپ DSP ہے۔ مگر پرسکون اور سادہ مزاج منوہر پاریکر نے اپنا ہیلمٹ اتارتے ہوئے اس لڑکے سے کہا: تو پھر اپنے باپ سے جا کر کہنا کہ تجھے وزیر اعلیٰ ملے تھے۔ اور سنو، گاڑی آہستہ چلایا کرو۔ ایسا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے نرمی سے جواب دیا۔ حالانکہ وہ خود وزیر اعلیٰ تھے، وہ اگر چاہتے تو جواب میں شدت کا طریقہ اختیار کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے نرم انداز میں اس لڑکے کو سمجھایا۔ “ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کو اعلیٰ انسان بناتی ہیں۔ مسٹر پاریکر کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ آدمی اگر چاہے تو اس کے لیے ہر جگہ اچھا انسان بننے کا موقع موجود ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر کبر کی نفسیات سے بچائے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues