Al-Risala · January 2026 · page 33

تسبیح فاطمہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۳۳

تسبیح فاطمہ

ایک مرتبہ امریکا کے سفر میں میں نے ڈاکٹر وقار عالم کی اہلیہ، مز نصرت فاطمہ کو ایک نصیحت کی۔ میں نے کہا کہ آپ کو امریکا میں دوسروں کی طرح تنہائی (loneliness) کا احساس ہوتا ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ اگر تسبیح فاطمہ کی اسپرٹ کو اپنے اندر شامل کر لیں تو آپ کا گھر فرشتوں سے بھرا رہے گا۔ میں نے کہا کہ تسبیح فاطمہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ تسبیح فاطمہ کا مطلب ہے ، فرشتوں کو اپنا مددگار بنانا۔ تسبیح فاطمہ کیا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلیٰ علیہ والہ وسلم کے پاس آئیں تا کہ وہ آپ سے گھر کے لیے ایک خادم مانگیں۔ مگر آپ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو خادم دینے کے بجائے یہ تسبیح سکھائی۔ آپ نے فرمایا کہ تم 33 بار کہو سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ پھر 33 بار کہو الحمد للہ، الحمد للہ۔ پھر 34 بار کہو اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ تمھارے لیے اس چیز سے بہتر ہے، جو تم نے مانگا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5361)۔

یہ عام طور پر تسبیح فاطمہ کے نام سے مشہور ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو اس کی تلقین فرمائی تھی۔ لیکن غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ آپ نے حضرت فاطمہ کے واسطے سے امت کی تمام خواتین کو ذکر کا یہ قیمتی تحفہ عطا فرمایا ہے۔ بظاہر وہ تسبیح فاطمہ ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ تسبیح خواتین ہے۔

اصل یہ ہے کہ فطری طور پر عورتوں کا ایک خاص مزاج ہے۔ اس مزاج کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں جب اکٹھا ہوتی ہیں تو وہ فوراً ایک دوسرے کی باتوں کا غیر ضروری چرچا کرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ کسی نہ کسی کے بارے میں لایعنی باتیں ان کا موضوع گفتگو بن جاتی ہیں۔ یہ عورتوں کی ایک عام کمزوری ہے جس سے بہت کم عورتیں اپنے کو محفوظ کر پاتی ہیں۔

مذکورہ تسبیح عورتوں کو اس گناہ سے بچانے کی ایک تدبیر ہے۔ رسول اللہ صلیٰ علیہ والہ وسلم نے اس طرح خواتین کو ایک اچھی مشغولیت دے دی ہے جس میں اپنے آپ کو مصروف کر کے وہ ثواب بھی حاصل کریں اور آخرت کے نقصان سے بھی بچ جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page