حاصل زندگی
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۵
گراہم (2018-1918) نے چند حقیقی مثالوں کا ذکر کیا ہے، جو گویا پوری انسانی تاریخ کی ترجمانی ہے: اس دنیا میں کسی کو بھی حقیقی معنوں میں خوشی حاصل نہیں۔ یہاں تک کہ بظاہر خوشی میں جینا بھی انسان کو بورڈم کا شکار بنا دیتا ہے، جو اپنے آپ میں بے خوشی کا ظاہر ہ ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اصل یہ ہے کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق، ہر انسان کے لیے موجودہ دنیا میں حاصل زندگی یہی ہے کہ وہ ایسا سرمایہ جمع کرنے کی منصوبہ بندی کرے جو نہ صرف اسے اس دنیا میں ایک اچھا انسان بنائے، بلکہ اس نامعلوم اگلی دنیا میں بھی اسے ایک اچھے انسان کی حیثیت عطا کرے۔ موت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ آپ ایک ایسے مقام کی طرف جانے والے ہیں جسے آپ ابھی تک بالکل بھی نہیں جانتے۔ بڑھاپا، بیماری اور دیگر کمزوریاں اس اٹل فطری قانون کی جبری یاد دہانی ہیں ۔ یعنی موت کے بعد ہمیں یقیناً ایک انتہائی نامعلوم مقام کی طرف لے جایا جائے گا، اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ عقل مند وہ نہیں جس کا مقصد یہ ہو کہ وہ اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ حاصل کرلے۔ دور اندیش وہ ہے جو یہ سوچ کر زندگی گزارے کہ مرنے کے بعد اسے کن چیزوں کی ضرورت ہوگی، اور وہ اسی حساب سے اپنا سرمایہ اکٹھا کرے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues