Al-Risala · January 2026 · page 47

تشبّہ بالکفار

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۴۷

تشبّہ بالکفار

تشبّہ بالکفار کی ممانعت شریعتِ اسلامیہ کے مسلّم اصلوں میں سے ہے۔ اس کا ثبوت رسول الله کا یہ فرمان ہے: مَنْ تَشَبّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن ابی داود، حدیث نمبر 4031)۔ یعنی، جس نے کسی قوم کی مشابہت کی، وہ انہی میں سے ہے۔ اس موضوع پر علمائے اسلام نے مستقل کتابیں لکھی ہیں، مثلاً علامہ ابن تیمیہ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفة أصحاب الجحیم۔ تشبّہ بالکفار کو سمجھنے کے لیے درج ذیل دو اصول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں:

وہ امور جو خیر، نفع اور انسانی بھلائی پر مبنی ہوں، ان میں مشابہت ممنوع نہیں ہے۔ جیسا کہ رسول الله نے بدر کے قیدیوں سے انصار کے بچوں کو لکھنا سکھانے کا کام لیا تھا: فَجَعَلَ رَسُولُ الله صلیٰ الله علیہ وسلّم فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ (مسند احمد، حدیث نمبر 2216)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علوم وفنون جن سے انسانی سماج کی بھلائی وابستہ ہو، انہیں محض اس وجہ سے ترک نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی دوسری قوم میں رائج ہیں۔ اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ آپ نے بیزنطینی حکومت کے ماتحت شام کے عیسائی کے ذریعہ تیار کردہ قمیص، جبّہ شامیہ یا جبّہ رومیّہ کو استعمال فرمایا (صحیح البخاری، حدیث 363؛ مسند احمد، حدیث 18239)۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر اسلامی سماج میں رائج تمدّنی اشیا کو اختیار کرنا تشبّہ کے حکم میں داخل نہیں، جب تک ان میں کوئی مذہبی یا اخلاقی برائی شامل نہ ہو۔ اس کے برعکس، وہ امور جن سے سماج میں شر، فساد یا حدود و شرع سے تجاوز پایا جائے، ان میں غیر مسلموں کی مشابہت حرام اور مردود ہے۔ ایک مسلمان ایسا کوئی کام دین کے نام پر انجام دے (مثلاً سوسائڈ بامبنگ، وغیرہ)، اور اس کے جواز کے لیے وہ غیر مسلموں کی مثالیں پیش کرے تو یہ غیر شرعی مشابہت کہلائے گی۔ کیوں کہ الله تعالیٰ کی نظر میں وہی کام دین کا ہے، جو حدود الله کے اندر ہو (النساء، 4:14)۔ کوئی بھی دینی کام اگر شرعی حدود سے باہر ہو یا وہ انسانی جان و مال کے نقصان کا ذریعہ بنے، وہ نہ صرف تشبّہ بالکفار کے زمرے میں آتا ہے، بلکہ حقوق العباد کی پامالی کے تحت ایسا ہر کام الله تعالیٰ کی نظر میں سخت مواخذہ کے قابل قرار پائے گا۔ (مولانا فرہاد احمد)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page