Al-Risala · January 2026 · page 46

دہرا خسارہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۴۶

دہرا خسارہ

بیسویں صدی میں جب مغربی طرز کی تعلیم گاہیں قائم ہوئیں تو بعض مسلم مفکرین نے انہیں ایمان کے لیے خطرہ سمجھ کر ’’قتل گاہ‘‘ کا درجہ دے دیا، اور کچھ لوگوں نے جذبات میں آ کر اپنے بچوں کو ان درس گاہوں سے مکمل طور پر دور کر دیا۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ادارے اعلیٰ مادی ترقی کے دروازے ہیں، چنانچہ نئی نسل کے مسلم نوجوان تیزی سے ان کی طرف بڑھنے لگے۔ اب لوگوں نے انہی ’’قتل گاہوں‘‘ کو ترقی کا زینہ سمجھا اور بلا اعلان اپنے بچوں کے لیے ان کا دروازہ کھول دیا۔ نتیجتاً نئی نسل کے نوجوان ان کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ڈگریاں لے کر ملک کے اندر اور باہر بڑی بڑی مادی ترقی حاصل کرنے لگے۔ ابتدائی طور پر یہ ہوا کہ جو مسلم نوجوان مغربی ملکوں میں تعلیم یا ملازمت کے لیے سٹل (settle) ہوئے، انھوں نے اپنے گھر والوں کو مغربی شہروں میں بلایا، تا کہ ان کے والدین بھی جدید ترقیوں کے فائدوں سے محروم نہ رہیں۔ یہ ابتدائی دور کی بات تھی۔ اب دوسری اور تیسری نسل میں خاموشی کے ساتھ یہ رجحان بدل رہا ہے۔ اب نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کے والدین اپنی پرانی بستیوں میں رہیں، اور وہ خود کبھی کبھار ان سے مل لیں یا ٹیلیفون پر حال چال پوچھ لیں۔ پہلے بچے اپنے والدین کو اپنے لیے اثاثہ (asset) سمجھتے تھے، اب وہ ان کو بوجھ (liability) سمجھنے لگے ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں کچھ والدین اپنے نئے ماحول میں سماجی طور پر تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ یہ صورت حال ایسے خاندانوں کے لیے ایک نفسیاتی اور سماجی چیلنج بنتی جارہی ہے۔

ایسے لوگوں کے لیے دوہر اخسارہ ہے۔ پہلے یہ لوگ اپنے وطن سے بے وطن بنے تھے، اور اب وہ اپنے نئے وطن میں اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اس کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس مسئلے کا بنیادی پہلو سب کے لیے واضح ہے، اور اس کا حل بھی اصولی طور پر معلوم ہے، مگر اسے اختیار کرنے کے لیے جس عملی قیمت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اکثر افراد یا خاندان ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ ہے ان ممالک میں دینِ اسلام کا مثبت انداز میں تعارف پیش کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page