Al-Risala · March 2026 · page 5

قربانی کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۵

قربانی کیا ہے

عید اضحیٰ کی قربانی کا ذکر قرآن کی سورۃ الصافات میں آیا ہے۔ متعلق آیات کا ترجمہ یہ ہے: (ابراہیم نے کہا) اے میرے رب! مجھے ایک صالح (فرزند) دے۔ تو ہم نے اس کو ایک تحمل والے فرزند کی بشارت دی۔ پس جب وہ اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا، اس نے کہا، اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں تو دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اسماعیل نے کہا: اے میرے باپ، تم کرو، جس کا تم کو حکم دیا جا رہا ہے (يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ)۔ تم پاؤ گے، مجھے، ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے (سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ)۔ پس جب دونوں نے خود کو رب کے حوالے کر دیا، اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔ ہم نے اس کو آواز دی، اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا! بیشک ہم محسنین کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں (قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ)۔ بیشک یہ کھلا ہوا امتحان تھا۔ اور ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑالیا۔ (37:100-107)

ان آیات پر غور کیجیے، اور دیکھیے کہ خواب کیا تھا، اور پیغمبر ابراہیم نے جو کیا، وہ کیا تھا۔ خواب بظاہر بیٹے کے ذبیحہ کا تھا۔ لیکن حضرت ابراہیم نے اس کے بدلے جس چیز کو ذبح کیا، وہ عملاً ایک دنبہ تھا، نہ کہ بیٹا۔ اس قربانی کو قرآن میں ذبح عظیم قرار دیا گیا۔ گویا کہ وہ عمل جو اسماعیل کے ساتھ کیا گیا، وہ ذبح عظیم تھا، اور وہ عمل جو دنبہ کے ساتھ کیا گیا، علامتی قربانی تھی۔ مطلوب قربانی یہ تھی کہ بیٹے کو ذبح کیا جائے ۔ اس مطلوب کو پیغمبر ابراہیم نے کس طرح پورا کیا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ پیغمبر ابراہیم نے اپنے بیٹے کو عرب کے غیر ذی زرع (بے آب و گیاہ) صحرا میں ان کی ماں کے ساتھ آباد کر دیا۔ اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ (آپ وہ کیجیے، جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم اور اسماعیل دونوں نے حکم خداوندی کی پوری طرح تعمیل کی، اور وہ تعمیل یہ تھی کہ انھوں نے اسماعیل اور ہاجرہ کو صحرا میں ایک نئی نسل کی تیاری کے لیے وقف کر دیا۔ یہ تاریخ کی، بلاشبہ، سب سے بڑی مقصدی قربانی تھی۔ اس لیے قرآن نے اس کو ذبح عظیم کا نام دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page