دورِ زوال
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۶
اس عظیم قربانی کا جو نتیجہ سامنے آیا، وہ یہ تھا کہ اس صحرا میں توالد و تناسل کے ذریعے ایک نسل تیار ہوئی، جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ اس واقعے کی مزید تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آئی ہے۔ یہی وہ نسل ہے، جس میں پیغمبرِ ابراہیم کے تقریباً 2000 سال کے بعد اصحابِ رسول پیدا ہوئے، جنھوں نے عظیم جدوجہد کے ذریعے وہ عالمی انقلاب پیدا کیا، جس کو ایک فرنچ مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
It (Islam) had sufficed to change the face of the globe. Wherever it had passed the ancient States, which were deeply rooted in the centuries, were overturned as by cyclone; The traditional order of history was overthrown. (A History of Europe, London, 1955, p. 46)
یعنی، اسلام نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا۔ جہاں جہاں اسلام پہنچا، وہاں صدیوں سے انتہائی مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی قدیم ریاستوں کو گویا ایک طوفان کی مانند پلٹ کر رکھ دیا۔ تاریخ کا قدیم روایتی نظام ٹوٹ کر بکھر گیا۔
دورِ زوال
امت مسلمہ کے دورِ زوال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں گویا پیشگی تنبیہ (advance warning) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان روایتوں کا مقصد یہ ہے کہ امت کے رہنما پیشگی طور پر زوال کی علامتوں کو جان لیں اور اُن کی اصلاح کے لیے سرگرم ہوجائیں۔ اگرچہ اس معاملے میں امتِ مسلمہ کا حال بھی عملاً وہی ہوا جو پچھلی امتوں کا ہوا تھا، یعنی پیشگی تنبیہات کے باوجود اصلاحِ حال میں ناکامی۔ اس کی وجہ مسلمانوں کے درمیان رائج خیر امت کا خود ساختہ تصور ہے۔ قرآن (3:110) میں مذکور خیر امت کا مطلب خیر الامم یا افضل الامم نہیں ہے۔ امت کے اندر اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام باقی نہ رہے تو اللہ کے نزدیک امت کی حیثیت العياذ باللہ، ملعون امت کی بن جائے گی، نہ کہ خیر امت کی۔ یہ انتباہ خود قرآن اور حدیث میں واضح طور پر دیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues