جنت آخرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۸
دو طریقے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعاً لِمَا جِئْتُ بِهِ (السنة لابن ابی عاصم، حدیث نمبر 15)۔ یعنی تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش اس چیز کے تابع ہو جائے جو میں لایا ہوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں عمل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے ہوی (اپنی خواہش) پر عمل کرنا، اور دوسرا ہے، ما جاء بہ الرسول (پیغمبر کے لائے ہوئے دین) پر عمل کرنا۔ آپ کے سامنے ایک حق آیا۔ آپ کے دل نے گواہی دی کہ یہ حق ہے۔ مگر اسی کے ساتھ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر میں اس حق کا اعتراف کرلوں تو میرا درجہ نیچا ہو جائے گا۔ اب اگر آپ نے حق کو مان لیا تو آپ نے ما جاء بہ الرسول پر عمل کیا اور اگر آپ نے حق کا انکار کیا تو آپ نے اپنی ہوی کی پیروی کی۔
ایک شخص نے آپ کے اوپر تنقید کی۔ اس سے آپ کی انا کو چوٹ لگی۔ آپ برہم ہو گئے۔ اس کے ساتھ رسول کی لائی ہوئی شریعت کا یہ حکم آپ کے سامنے آیا کہ متکبر نہ بنو، بلکہ متواضع بن کر لوگوں کے درمیان رہو۔ اب اگر آپ نے تنقید کے جواب میں تواضع کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ما جاء بہ الرسول پر عمل کیا اور اگر آپ نے تنقید کے جواب میں گھمنڈ کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ہوی کی پیروی کی۔ ایک شخص کے کسی رویہ سے آپ کو شکایت پیدا ہوئی۔ آپ مشتعل ہو گئے۔ اس وقت آپ کے سامنے شریعت کا یہ حکم آیا کہ لوگ اشتعال انگیزی کریں تب بھی تم صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ اب اگر آپ نے اشتعال کے باوجود صبر کیا تو آپ نے ما جاء بہ الرسول پر عمل کیا۔ اور اگر آپ مشتعل ہو کر فریق ثانی سے لڑنے لگے تو آپ نے ہوی کی پیروی کی۔
یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ ہر معاملہ جو آدمی کے ساتھ پیش آتا ہے، اس میں اس کے لیے دو میں سے ایک رویہ اختیار کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ ایک رویہ اختیار کرنے کے بعد وہ خدا کے یہاں مومن لکھ دیا جاتا ہے، اور دوسرا رویہ اختیار کرنے کے بعد غیر مومن۔ (الرسالہ، نومبر 1991)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues