ضروری تیاری کے بغیر
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۹
ضروری تیاری کے بغیر
کوئی انسان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس دنیا میں آتا ہے تو فطری طور پر اس کے لیے یہاں لامحدود امکان (unlimited potential) موجود ہوتا ہے۔ مگر دنیا کے فطری قانون کے مطابق، یہاں منصوبہ بندی اور ضروری تیاری کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔ کیوں کہ یہاں ہر چیز آپ کو پوٹینشل (potential) کی صورت میں ملتی ہے۔
آپ کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ آپ اس پوٹینشل کو دریافت کریں، اور پوٹینشل کو ذاتی عمل سے اپنے لیے ایکچول (actual) بنائیں ۔ مثلاً درخت کا پھل آپ کو خود سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ آپ کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ زرخیز زمین (soil) میں ایک پودا لگائیں۔ صبر کے ساتھ اس کی نگہداشت کرتے ہوئے اس کو اگانا شروع کریں۔ اس طرح وہ وقت آتا ہے، جب کہ درخت ایک مکمل درخت بن جائے، اور اپنا پھل آپ کو دینا شروع کرے۔ اسی طرح انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اقدام سے پہلے گہرے مطالعے کے ذریعہ مواقع کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو استعمال (avail) کرے۔
یہی فطری اصول فرد اور گروہ کی کامیابی کے لیے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ انسان کے لیے اس دنیا میں موافق زمین (opportunity) کی کوئی کمی نہیں ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کے لیے ضروری تیاری کی جائے۔ تیاری کے بغیر مواقع کو پانا ممکن نہیں۔ ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان صبر اور مثبت سوچ کی روش اختیار کرے۔ اس میں ادنی درجے کا ڈسٹریکشن (distraction) انسان کو کامیابی سے دور کر دیتا ہے۔ وہ امکان کے قریب پہنچ کر بھی امکان سے دور ہو جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ اسی طریقے کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ کو ہر اعتبار سے غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طریقے کو، دوسرے لفظوں میں حکیمانہ طریق کار کہا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues