غیر فطری اختلاف
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۱۳
کے ساتھ جب تک سائنسی علوم حاصل نہیں کریں گے، اور ہمارے نوجوان ان سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ اس وقت تک فکری غلبہ حاصل نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ اس وقت یورپ کے افکار دنیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ اور ان کا جواب ان کی زبان میں دینا ہوگا۔ (ماہ نامہ دار العلوم، مارچ 2010، صفحہ 35) جدید مغربی افکار کے بارے میں مسلم علما کا عام ذہن یہی ہے۔ وہ ان کو اسلام پر مغرب کے فکری حملے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ جس چیز کو اپنی ضرورت سمجھتے ہیں، وہ صرف یہ ہے کہ اہل اسلام کی طرف سے ان کا دفاعی جواب دیا جائے۔ یہ مغربی افکار کا صرف کمتر اندازہ ہے۔ مغربی افکار، دوسرے الفاظ میں سائنس کی زمین پر پیدا شدہ افکار کا نام ہیں، اور سائنس علوم فطرت کا دوسرا نام ہے۔ اس اعتبار سے، سائنس خود اسلام کے لیے ایک تائیدی علم کی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید طبیعی سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسلام کا جدید علم کلام ہے۔
اس معاملے میں مسلم علما کی یہ ہلاکت خیز غلطی ہے کہ وہ مغربی سائنس سے مغربی کلچر کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر وہ دونوں کو ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ مغربی سائنس کا علم کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور انہوں نے یہ کتابیں پڑھی نہیں۔ اس کے برعکس، مغربی کلچر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کتابی مطالعے کے بغیر جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی کلچر کو دیکھ کر یہ فرض کر لیا کہ یہی معاملہ مغربی سائنس کا بھی ہے۔ یہ مسئلہ ”جواب“ دینے کا نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ جدید سائنسی علم کو اسلام کے حق میں استعمال کیا جائے (حکمتِ اختلاف، صفحہ 90)۔ ترقی کا زینہ ایک صاحب ایک عربی مدرسہ میں استاذ تھے۔ کچھ لوگ ان کے خلاف غصہ ہو گئے۔ انھوں نے ان کو اتنا زیادہ پریشان کیا کہ ان کو مدرسہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ وہ مجھ سے ملے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں یہ آپ کے لیے نئی ترقی کا زینہ ہے۔ باغبان کبھی ایک پودے کو اکھاڑتا ہے صرف اس لیے کہ اس کو دوبارہ کسی زیادہ بہتر جگہ پر نصب کیا جائے ۔ (ڈائری، 5 دسمبر 1996)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues