غیر فطری اختلاف
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۱۲
غیر فطری اختلاف
مولانا محمد بدر عالم میرٹھی (وفات 1965) مشہور حنفی عالم تھے۔ ان کا ایک واقعہ مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ایک روز فرمانے لگے کہ حنفی مسلک کا سب سے مشکل مسئلہ کون سا ہے جس کو ثابت کرنا حنفیوں کے لیے بڑا دشوار ہوتا ہے۔ ہم نے فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر، اس طرح کے مسائل بتانے شروع کیے۔ فرمایا نہیں۔ حنفی مسلک کا سب سے مشکل مسئلہ وتر کا ہے۔ یہ فرما کر اپنے استاد حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کی عربی کتاب "کشف الستر عن صلوة الوتر" مجھے دی اور فرمایا کہ اس کا غور سے مطالعہ کر کے آنا (ماہ نامہ دار العلوم، مارچ 2010، صفحہ 31)۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں، عباسی دور میں جو فقہ بنی، اس کی حقیقت کیا تھی ۔ اس زمانے میں بظاہر بہت سے فقہی اسکول قائم ہوئے، لیکن اصل حقیقت کے اعتبار سے سب کی نوعیت ایک تھی، تمام فقہا بظاہر اختلاف کے باوجود ایک ہی مشترک مہم میں مشغول تھے۔ اور وہ تھا، اسلام کا ایک ظاہری فارم بنانا۔ فقہا کی تمام تر توجہ اسلامی عمل کے ظاہری فارم پر تھی، نہ کہ اس کے داخلی اسپرٹ پر۔
اس غلط ترجیح کی بنا پر فقہا کی کوششیں غیر مفید ہو کر رہ گئیں۔ فارم میں فطری طور پر موضوع تنوع اور تعدد ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کا ایک مستند فارم بنانے کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ متعدد مذاہب فقہ قائم ہو گئے۔ اتحاد کی کوشش عملاً تفریق میں تبدیل ہو گئی ۔ فقہا کے پاس کوئی خود دریافت کردہ عبادتی ڈھانچہ نہیں تھا، وہ یہی کر سکتے تھے کہ اصحاب رسول کی روایتوں سے عبادت کا طریقہ متعین کریں۔ بطور حقیقت اصحاب رسول کی عبادت کے طریقوں میں اختلاف تھا، ایسی حالت میں اگر فقہا تنوع کے اصول کو مان لیتے تو مسلک کا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا۔ اس کے برعکس، انہوں نے عبادات کا واحد مستند فارم بنانے کی کوشش کی، اس کا نتیجہ عملاً یہ نکلا کہ غیر ضروری طور پر مختلف فقہی مسالک قائم ہو گئے۔ شیخ محمد امین شنقیطی (وفات 1974) مشہور عرب عالم تھے۔ ان کا ایک واقعہ مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: شیخ شنقیطی اکثر کہا کرتے کہ ہمارے علما دینی بصیرت
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues