ہر چیز ایک پروفیشن
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۱۸
ہر چیز ایک پروفیشن
ایک مذہبی مسلمان نے ایک دکان کھولی۔ دکان کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے دکان بند کردی اور ایک مدرسہ کھول لیا۔ مدرسہ کامیابی کے ساتھ چلنے لگا۔ جو فائدہ انہیں دکان سے حاصل نہیں ہوسکا تھا، وہ فائدہ ان کو مدرسے سے حاصل ہوگیا۔ ایک مسلمان نے ڈاکٹری شروع کی۔ ڈاکٹری میں وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اسلامی ادارہ بنایا اور اس ادارے کے اسٹیج سے انہوں نے اسلامی تقریروں کا پروگرام شروع کر دیا۔ اب وہ خوب کامیاب ہو گئے۔ جلد ہی مسلمانوں کے درمیان ان کی دھوم مچ گئی۔ ایک مسلمان عرصے تک بے کار تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مسجد کی بنیاد رکھ دی۔ ایک عرصے کے بعد مسجد کی شاندار عمارت کھڑی ہوگئی۔ مسجد کے ذریعے انہیں وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جس کو وہ چاہتے تھے۔
اسی کا نام دینی پروفیشن ہے، یعنی دین کو ایک پروفیشن کے طور پر اختیار کرنا۔ دین کے نام پر وہ فائدے حاصل کرنا جس کو لوگ مادی پیشے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہ دینی پروفیشن بہت زیادہ عام ہو چکا ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی عنوان سے، دین کو ایک تجارت بنائے ہوئے ہے۔ ہر آدمی دین کے نام پر وہ تمام مادی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو دوسرے لوگ دنیا کے نام پر حاصل کرتے ہیں۔
ایک چیز ہے مشن (mission) اور دوسری چیز ہے پروفیشن (profession)۔ ایک شخص دین کو مشن کے طور پر اختیار کرے، یعنی خالص رضائے الہی کے لیے وہ دین کے کسی شعبے کی خدمت کرے، تو اس کا یہ عمل اس کے لیے آخرت میں داخلے کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے برعکس، جولوگ دین کو بطور پروفیشن اختیار کریں، یعنی دین کے نام پر مادی فائدہ حاصل کریں، ان کو دنیا کی زندگی میں کچھ ظاہری فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن آخرت میں وہ اس قرآنی آیت کے مصداق ٹھہریں گے: أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ (3:77)۔ یعنی، آخرت کی اعلیٰ نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues