Al-Risala · March 2026 · page 19

سیکھنے کی اہمیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۱۹

سیکھنے کی اہمیت

ایک مسلم نوجوان نے عربی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں داخلہ لیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ مدرسہ میں پڑھے ہوئے نوجوانوں سے ملتے ہیں، لیکن جو نوجوان انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر آتے ہیں اور انگریزی بولتے ہیں ان سے وہ دور رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ان لوگوں کی طرح اچھی انگریزی بولنا نہیں آتا۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی عذر نہیں۔ اگر آپ کو اچھی انگریزی بولنا نہیں آتا تو آپ کو سیکھنا تو آتا ہے۔ آپ بات کرنے کے لیے نہیں، بلکہ سیکھنے کے لیے ان کے پاس بیٹھیے۔ انہوں نے ایک سال ایسا کیا۔ اس کے بعد انہیں دوسروں کی طرح انگریزی میں بات کرنا آ گیا۔ اکثر لوگ اپنے بارے میں اس قسم کی کمتری کی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ اپنے حال (present) کو جانتے ہیں، مگر وہ اپنے مستقبل (future) کو دریافت نہیں کر پاتے۔ یہ کمزوری اکثر لوگوں میں غیر شعوری طور پر ہوتی ہے۔ وہ اپنی اس کمزوری کو دریافت نہیں کر پاتے، وہ جانے بغیر اس میں مبتلا رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر اعلیٰ امکانات موجود رہتے ہیں، لیکن بے شعوری کی بنا پر وہ ان امکانات کو واقعہ نہیں بنا پاتا۔ یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جاتا ہے۔ سیکھنا (learning) ہر انسان کے لیے بہت ضروری ہے۔ سیکھنے کا فائدہ سب سے زیادہ ان لوگوں کے ذریعے ملتا ہے جو آپ کے جاننے والے ہوں۔ البتہ اس کے لیے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) کا مزاج ہو۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ تواضع علم کا دروازہ ہے:

Modesty is the door of knowledge.

تواضع کے ذریعے آدمی علم کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت نہ ہو، وہ دوسروں سے فائدہ نہیں اٹھائے گا، وہ علم کے کتب خانے کے اندر بھی علم سے محروم رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page