علم کا اٹھ جانا
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۲۰
علم کا اٹھ جانا
صحیحین میں ایک روایت آئی ہے۔ بخاری کے الفاظ یہ ہیں۔ حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيْثْبُتَ الْجَهْلُ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 80)۔ یعنی ، قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ قیامت سے پہلے علم اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔
اس حدیث رسول میں علم سے مراد حکمت ہے۔ علم کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے، معلومات (information)، اور دوسری چیز ہے، حکمت (wisdom)۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ علم بمعنی معلومات اٹھ جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر علم تو موجود ہوگا ، لیکن اہل علم حکمت و بصیرت سے محروم ہو جائیں گے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں وہ واقعہ عملاً پیش آ چکا ہے، جس کی پیشین گوئی مذکورہ حدیث رسول میں کی گئی تھی۔ جہاں تک علم بمعنی معلومات کا تعلق ہے، موجودہ زمانے میں اس اعتبار سے، بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک کمپیوٹر کے اندر اس سے زیادہ علمی ذخیرہ موجود ہوتا ہے، جو اس سے پہلے کسی بڑے کتب خانے میں پایا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں سب سے بڑا محدث گوگل (Google) ہے۔ کیوں کہ ایک سوئچ دبانے سے گوگل کا سرچ انجن آپ کے سامنے اتنی زیادہ حدیثیں پیش کر دیتا ہے، جو اس سے پہلے کسی بڑے سے بڑے محدث کے دماغ میں بھی نہیں ہوتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث رسول میں رفع علم سے مراد رفع حکمت ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے دنیا میں غیر معمولی مادی ترقیاں ہوں گی۔ لوگ مادیات میں اتنا زیادہ مشغول ہو جائیں گے کہ ان کے پاس حکمت و بصیرت جیسی چیزوں پر غور کرنے کے لیے وقت ہی نہ ہوگا۔ لوگوں کے پاس معلومات تو ہوں گی ، لیکن حکمت و بصیرت کے اعتبار سے وہ ذہنی بوناپن (intellectual dwarfism) کا شکار ہو جائیں گے۔ لوگ صاحب معلومات تو ہوں گے، لیکن وہ صاحب بصیرت نہ ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues