علماء کا مقام
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۲۹
سبق آموز
فتح پور سیکری شہنشاہ اکبر (1605-1543) کا دارالسلطنت تھا۔ یہ آگرہ سے 45 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں دوسری بہت سی عمارتوں کے ساتھ ایک شاہی ”عبادت خانہ“ بھی تھا۔ یہ عبادت خانہ اکبر کے بعد زمین کے نیچے دب گیا اور اس کے اوپر گھاس اور درخت اگ آئے۔ حال میں حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ اور مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے مشترک منصوبہ کے تحت اس کی کھدائی کی گئی ہے اور اس کو باہر نکالا گیا ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا 8 جون 1984) اس عبادت خانہ میں شہنشاہ اکبر علما کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔ اور ان سے مذہب کے موضوعات پر گفتگو کرتا تھا۔ یہیں اس نے اپنا مشہور ”دین الہی“ وضع کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں۔ اس لیے کسی ایک مذہب کی بنیاد پر یہاں سیاسی استحکام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
اس نے یہ رائے قائم کی کہ اس ملک میں مغل سلطنت کی بنیاد اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک یہاں کے لوگوں کا مذہب ایک نہ ہوجائے۔ تبلیغ کے ذریعہ مذہب کو بدلنا اس کو مشکل نظر آیا۔ چنانچہ اس نے ایک نیا مذہب، دین الہی ایجاد کیا۔ جس میں بزعم خود اس نے تمام مذاہب کی خصوصیات جمع کرنے کی کوشش کی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ نیا مذہب اپنی مشترک خصوصیات کی بنا پر ملک کے تمام باشندوں کے لیے قابل قبول ہو جائے گا۔
دین الہی کی تشکیل کے دوران اس کو عیسائی مذہب کے بارے میں جاننے کی ضرورت پیش آئی۔ اس نے پرتگال کے عیسائی بادشاہ کو خط لکھا کہ اس کو انجیل کے فارسی ترجمے کی ضرورت ہے۔ شاہ پرتگال نے یہ فارسی ترجمہ بھیج دیا۔ تاہم اس کا مطالعہ اکبر کے لیے کافی نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اکبر نے روم کے پوپ کو لکھا کہ مسیحیت کی تعلیم کے لیے اس کے پاس معلم بھیجے جائیں۔ پوپ نے فوراً دو تربیت یافتہ افراد ہندوستان روانہ کردیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues