علماء کا مقام
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۳۰
ایک فادر اکوا ویوا (Fr. Rodolfo Acquaviva) اور دوسرا فادر مانسریٹ (Fr. Anthony Monserrate)۔ یہ دونوں صاحبان 28 فروری 1590ء کو فتح پور سیکری پہنچے۔ "اکبر نامہ" کی ایک پینٹنگ میں اکبر ان عیسائی معلمین سے محو گفتگو نظر آتا ہے۔ اکبر نے ان دونوں عیسائی معلمین کو شاہی عبادت خانہ کے پاس "خوشبو خانہ" میں ٹھہرایا۔ مگر یہ دونوں مسیحی صرف "معلم" نہ تھے۔ بلکہ وہ اپنے مذہب کے تربیت یافتہ مبلغ تھے۔ چنانچہ انھوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ خوشبو خانہ کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ یہ شمالی ہند کا پہلا گرجا گھر تھا جو اکبر کے زمانے میں قائم ہوا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ فادر اکواویوا نے پوپ کو جو رپورٹ بھیجی تھی، اس میں اس نے لکھا کہ میرا احساس یہ ہے کہ اکبر ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو رہا ہے کہ وہ مسیحیت کو قبول کرلے۔ مگر اس سے اکبر کا اصل مقصد (سلطنت کا استحکام) حاصل نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے اکبر ایسے اقدام سے باز رہا۔ اس واقعہ میں دو بڑے سبق ہیں۔ ایک سبق یہ کہ دولت اور اقتدار کا حصول اکثر عقل سے محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ کسی آدمی کو جب دولت اور اقتدار مل جاتا ہے تو اکثر اس کو وہ ایسے کاموں میں ضائع کرتا ہے جس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ شہنشاہ اکبر نے سیاسی خوش خیالی کے تحت "دین الہیٰ" وضع کیا تھا۔ اس پر اس نے سلطنت کے بے پناہ وسائل خرچ کیے۔ حالاں کہ اس کا انجام بالآخر یہ ہونا تھا کہ وہ تاریخ کے ملبہ کے نیچے دب کر رہ جائے اور آثار قدیمہ کے طالب علموں کے سوا کسی اور کو اس سے دل چسپی نہ رہے۔
دوسرا سبق دعوتی ہے۔ اکبر نے پوپ سے مسیحی معلم مانگے اور اس نے فوراً دو تیار شدہ افراد اس کے پاس بھیج دیے ۔ جب کہ مسلمانوں سے جدید دور میں بار بار یہی تقاضا کیا گیا ہے، مگر وہ اس تقاضے کو کبھی پورا کر سکے۔ مسیحی ادارے اپنی مشنری اسپرٹ کی وجہ سے سیکڑوں سال سے اس پوزیشن میں ہیں کہ مشرق و مغرب میں اپنے تربیت یافتہ افراد بھیج سکیں۔ جب کہ مشنری اسپرٹ سے محروم ہو کر مسلمانوں کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ان کے پاس نہ مشرقی ضرورت کے مطابق خدا کے دین کے مبلغ موجود ہیں اور نہ مغربی ضرورت کے مطابق۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues