علماء کا مقام
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۳۱
دور جدید میں مسلمانوں کی بر بادی کا واحد سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ مسلمانوں کی حیثیت خدا کے گواہ کی ہے (البقرۃ، 2: 143؛ الحج، 22: 78)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عملی سرگرمیوں کا اصل نشانہ صرف ایک ہے اور وہ دعوت ہے۔ جن لوگوں کی نظریں اس نشانہ پر جمی ہوئی ہوں وہ اپنے لیے عمل کا صحیح میدان پالیں گے اور جب نظریں اس نشانہ سے ہٹ جائیں تو تمام قوتیں منتشر ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی قوم بن جاتے ہیں جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ وہ ایسا گروہ بن جاتے ہیں جس کا کوئی اقدام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے ۔ (الرسالہ، اگست 1984) تربیت شعور مسٹر خالد جمال ملاقات کے لیے آئے۔ وہ حیدر آباد میں رہتے ہیں ۔ اس وقت وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کارپوریٹ کمیونی کیشنز کے منیجر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میری ابتدائی تعلیم کلکتہ کے ایک اردو اسکول میں ہوئی۔ میرے باپ بھی معمولی حیثیت کے آدمی تھے۔ بظاہر میرے لیے کسی بڑی ترقی کے مواقع نہیں تھے۔ مگر میں اپنی طالب علمی کے زمانہ سے ہی الرسالہ پڑھتا تھا۔ اس سے میرے اندر ایک نئی سوچ اور نئی ہمت پیدا ہو رہی تھی ۔ پھر میں نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایچ آف کمیونی کیشن ہے۔ اس کو پڑھ کر میرے اندر یہ عزم جاگا کہ مجھے کمیونی کیشن کا کورس کرنا چاہیے ۔ چنانچہ اردو اسکول سے فراغت کے بعد میں نے کمیونی کیشن کی اسٹڈی شروع کردی۔ یہاں تک کہ آج میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کمیونی کیشن کے شعبہ کا منیجر ہوں ۔ اکثر لوگ اردو اسکول اور عربی مدرسہ کے خلاف لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قوم کو ناکارہ بناتا ہے۔ مگر مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ یہ رائے درست نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ اردو اسکول یا عربی کے ساتھ "الرسالہ" جیسے کسی انفارمل تربیتی کورس کا اضافہ کر دیا جائے۔ اس کے بعد ہر طالب علم اس طرح آگے بڑھ جائے گا جس طرح خالد جمال صاحب آگے بڑھ گئے۔ (ڈائری، یکم دسمبر 1995)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues