سائنٹفک مزاج
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۳۴
سائنٹفک مزاج
سائنٹفک مزاج (scientific temper) علمی اعتبار سے کسی انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ سائنٹفک مزاج اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے قول یا اپنے عمل میں کوئی ایسی روش اختیار نہ کرے جو حقیقتِ واقعہ کے خلاف ہو۔ کسی انسان کے اندر سائنٹفک مزاج اس وقت بنتا ہے جب کہ آدمی کے اندر کامل معنوں میں موضوعیت (objectivity) پائی جائے ۔ وہ اس قابل ہو جائے کہ وہ اپنے ذاتی رجحان سے الگ ہو کر چیزوں کو غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھے اور ایزاٹ از (as it is) انداز میں اپنی رائے قائم کرے۔
سائنٹفک اپروچ (scientific approach) اور سائنٹفک ٹمپر دونوں قریبی الفاظ ہیں۔ لیکن دونوں میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ سائنٹفک اپروچ ایک ٹیکنیکل اصطلاح ہے۔ جب کہ سائنٹفک ٹمپر آدمی کے نفسیاتی مزاج کو بتاتا ہے۔ سائنٹفک اپروچ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی معلوم سائنسی طریقہ (scientific method) کو اپنائے، وہ متھڈولوجی (methodology) کے اعتبار سے سائنسی اصولوں کی پیروی کرے۔ اس کے مقابلے میں سائنٹفک ٹمپر کا مطلب یہ ہے کہ یہی آدمی کی نفسیات بن جائے۔
سائنٹفک ٹمپر ایک بے حد مشکل چیز ہے۔ اکثر بڑے بڑے لوگوں میں بھی سائنٹفک ٹمپر ہوتا۔ اس کی ایک مثال اسٹیفن ہاکنگ (2018-1942) ہے۔ وہ ایک ماہرِ نظریاتی سائنسداں کی حیثیت سے معروف ہے۔ لیکن اس نے ایک ایسا بیان دیا جو سائنٹفک ٹمپر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک انٹرویو کے دوران اس نے کہا کہ جنت یا زندگی بعد موت کا کوئی وجود نہیں، یہ سب پریوں کی کہانی ہے: There is no heaven or afterlife, that is a fairy story. ایک آدمی جس کے اندر سائنٹفک ٹمپر ہو وہ ایسی بات کہنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ ایک سائنسداں جائز طور پر صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ جنت جیسی کوئی چیز اب تک اس کے مشاہدے میں نہیں نہیں۔ مگر یہ بات کہنا کہ جنت جیسی کوئی چیز امرِ واقعہ کے طور پر موجود نہیں، خالص علمی اعتبار سے ایسا کہنے کا حق کسی کو نہیں، نہ سائنس داں کو اور نہ غیر سائنسداں کو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues