Al-Risala · March 2026 · page 35

سائنٹفک مزاج

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۳۵

اسی طرح مشہور سائنس داں البرٹ آئنن سٹائن نے یہودی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind, 1877-1965) کو ایک خط (3 جنوری 1954) لکھا تھا، جو علمی دنیا میں گاڈ لیٹر (God letter) کے نام سے معروف ہے۔ اس خط میں آئ سٹائن نے لکھا کہ خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے: The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses. یہ خود اگر چہ ایک معروف سائنس داں کا قول ہے۔ مگر وہ سائنٹفک ٹمپر کے مطابق نہیں۔ ایک مسئلے کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بتاتے ہوئے، یہ ایک ایسا بیان دینا ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک سبجیکٹیو بیان (subjective statement) ہے۔ یہ بات ایک سائنسداں کے حیثیت عرفی کے خلاف ہے۔ کیوں کہ سائنسداں اپنے علمی موقف کے مطابق، صرف آبجیکٹیو بیان (objective statement) کو درست (valid) سمجھتا ہے، نہ کہ سبجیکٹو بیان (subjective statement) کو۔

ڈاکٹر اے وی ہل (Archibald Vivian Hill, 1886-1977) نے کہا ہے کہ میں آخری شخص ہوں گا جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ ہم سائنسداں دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلے میں کم تعصب رکھنے والے ہوتے ہیں:

I should be the last to claim that we, scientific men, are less liable to prejudice than other educate men. ایک سائنسی عالم کا مذکورہ قول بالکل درست ہے۔ اس کلیہ میں سائنس دانوں کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ سائنسی مزاج کسی آدمی کا سب سے بڑا ذہنی سرمایہ (intellectual asset) ہے۔ ایسا آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کے بارے میں مبنی بر حقیقت رائے قائم کرے، وہ جانبدارانہ سوچ سے آخری حد تک خالی ہو، وہ چیزوں کو اپنے ذاتی رجحان کی روشنی میں نہ دیکھے، بلکہ اس طرح دیکھے جیسے کہ وہ حقیقتاً ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page