فرشتے کا ٹیلیفون
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۱۳
فرشتے کا ٹیلیفون
وہ ایک ڈاکٹر تھا۔ زندگی بہت مصروف تھی۔ دولت کی بارش اور پیشہ کی سرگرمیوں میں دین کا کوئی خانہ نہ تھا۔ اس کو یہ موقع ہی نہ تھا کہ وہ دینی کتابیں پڑھے یا دینی موضوعات پر کچھ سوچ سکے۔ اس کے پاس آنے والے سب وہی ہوتے تھے جو اس کے پیشہ کے تقاضوں کے اعتبار سے اس سے ملنے کے لئے آتے تھے۔ البتہ ایک شخص کبھی کبھی اس کے یہاں آتا تھا اور دین کے بارے میں اس سے بات کرتا تھا۔ مگر یہ گفتگو ہمیشہ نا تمام ختم ہو جاتی تھی۔ آنے والے آدمی کو تھوڑی دیر کے بعد محسوس ہوتا کہ ڈاکٹر اس قسم کی گفتگو کو غیر اہم سمجھ کر اس سے بے توجہ ہو رہا ہے۔ چنانچہ وہ آدمی خود ہی اپنی گفتگو کو ختم کرکے تھوڑی دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتا اور اس کے بعد چلا جاتا۔
ایک روز ڈاکٹر اپنے گھر کے کمرہ میں اکیلا تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ ”ہیلو“ کے تبادلہ کے بعد دوسری طرف سے آواز سنائی دی ”میں جبریل بول رہا ہوں۔ خدا تم کو بلانا چاہتا ہے۔ ۔۔ “ آواز عجیب بھیانک تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی غیر انسانی مخلوق انسانی زبان میں بول رہی ہے۔ ڈاکٹر پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ کچھ جواب نہ دے سکا۔ اور ریسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ کچھ دیر بعد جب اس کے ہوش و حواس درست ہوئے تو اس نے سوچنا شروع کیا کہ یہ کیسی آواز تھی جو ٹیلیفون پر سنائی دی کہ ”میں جبریل بول رہا ہوں، خدا تم کو بلانا چاہتا ہے۔ “ سنی ہوئی آوازتہ اس کو لفظ لفظ یاد تھی۔ مگر اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے اور اس کے جواب میں اس کو کیا کرنا چاہئے۔ اس نے اپنے تمام دوستوں کو ٹیلی فون کر ڈالا اور ہر ایک سے پوچھتا رہا۔ مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس نے ڈاکٹر کو اس قسم کا ٹیلی فون کیا ہے۔
ڈاکٹر کئی روز تک اسی سوچ میں پڑا رہا۔ ٹیلی فون پر سنی ہوئی بھیانک آواز کسی طرح اس کی یاد سے نہیں نکلتی تھی۔ آخر ایک روز مذکورہ آدمی آیا۔ ڈاکٹر نے اس سے اپنے واقعہ کا ذکر کیا۔ آدمی ایک منٹ خاموش رہا اور اس کے بعد بولا: یہ تمھارے نام فرشتے کا پیغام تھا۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کوچ پر جانا چاہئے۔ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ بات آگئی۔ اس نے فوراً تیاری شروع کر دی۔ اور پہلا موقع آتے ہی حج کے لئے روانہ ہو گیا۔ ڈاکٹر کا حج اس کی زندگی کا بڑا تاریخی واقعہ تھا۔ حج کے دوران اس پر عجیب کیفیت طاری رہی۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ رب کعبہ کے مخصوص بلاوے پر دیار حرم میں حاضر ہوا ہے۔ واپس آنے کے بعد چہرہ پر داڑھی اور پنج وقتہ نمازوں کے اہتمام نے بتایا کہ ڈاکٹر اب نیا انسان بن چکا ہے۔
ڈاکٹر کی زندگی میں یہ انقلاب اس لئے آیا کہ ”جبریل“ کی آواز سن کر اس نے سمجھا کہ براہ راست آسمان سے اس کو پکارا جا رہا ہے۔ جب کہ مذکورہ شخص کی تبلیغ اس کو محض ایک انسان کی آواز معلوم ہوتی تھی۔ تاہم اگر آدمی کی فطرت بیدار ہو جائے تو اس کو ”ٹیلی فون“ پر جبریل کی آواز سننے کی ضرورت نہیں۔ اس کو نظر آئے گا کہ ستاروں سے لے کر درختوں تک ہر چیز خاموش زبان میں وہی پیغام دے رہی ہے جس کو ڈاکٹر نے ”جبریل“ کی طرف سے ٹیلی فون کی زبان میں سنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues