رعایت نہیں صلاحیت
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲
رعایت نہیں صلاحیت
ہمارے ملک کی مسلم قیادت نے مسلمانوں کے مسئلے کے حل کا جو آخری راز دریافت کیا ہے، وہ یہ کہ مسلمانوں کو وہ رعایتیں دی جائیں جو شیڈیولڈ کاسٹ کے لئے مخصوص کی گئی ہیں" اولاً تو یہ ممکن نہیں۔ اور بالفرض یہ ناممکن اگر ممکن بھی ہو جائے تو یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی رعایت زندگی کے وسیع تر حقائق کا بدل نہیں بن سکتی۔ یہ دنیا استعداد کی بنیاد پر جگہ حاصل کرنے کی دنیا ہے، یہاں محض رعایت سے کوئی شخص بلند مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
ونے کر پال اور گوندر سلیگر نے شیڈیولڈ کاسٹ اور قبائل کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان رعایتوں نے ان طبقات کی حالت میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔ اب بھی اگر کوئی ہر جن کامیاب ہے تو وہ وہی ہے جس نے اپنے اندر کوئی خاص صلاحیت پیدا کی تھی۔ مثلاً ڈاکٹر امبیڈ کر، شری جگ جیون رام، شری کے آر نارائن وغیرہ۔
لکشمن ہلدر ایک مزدور تھے، پھر انہوں نے کچھ تعلیم حاصل کی اور ٹائپ کرنا سیکھا۔ اس کے بعد ان کو مرکزی حکومت میں رزرو سیٹ کے تحت کلرکی کی ایک جگہ مل گئی۔ مگر ان کی انگریزی کمزور تھی۔ ان کے افسر نے ان کی کتاب میں لکھ دیا : His English is weak اس قسم کی رپورٹ تین سال تک درج ہوتی رہی۔ قاعدہ یہ ہے کہ اگر تین سال تک مسلسل کسی کے خلاف "بیڈ رپورٹ" ہوتی رہے تو اس کی ملازمت ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ لکشمن ہلدر کو ختم ملازمت کا نوٹس مل گیا۔ تاہم انہوں نے دوڑ دھوپ کی۔ ایک ڈائرکٹر کوان پر رحم آ گیا اور اس نے ان کی ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کردی۔ اب لکھمن ہلدر نے محنت شروع کی اور مدت ختم ہونے تک انگریزی بولنے کی اچھی صلاحیت پیدا کر لی ۔ اس کے بعد وہ دوبارہ ملازمت میں لے لئے گئے۔ (السٹر شٹیڈ ویکلی سہ ۲ را پریل ۱۹۶۷ لکھمن ہلدر کو بالآخر جس چیز نے جگہ دی وہ ان کی صلاحیت تھی نہ کہ رعایت ۔ یہی بات ہر ایک کے لئے صحیح ہے، نچاجا وہ ہر جن ہو یا غیر ہر جن خاموشی اختیار کر لی ۱۹۶۲ میں جب چین نے ہندوستان پر حملہ کیا، اس وقت مسٹر دی ۔ کے کرشنا من ہندستان کے وزیر دفاع تھے ۔ اس کے بعد "ان سائیڈ اسٹوری" اور "آن ٹولڈ اسٹوری" قسم کی بہت سی کتابیں لکھی گئیں جن میں مسٹر من کو اس حادثہ کا ذمہ دار ٹھرایا گیا تھا۔ اس طرح کی کتابیں اور مضامین نے اس موضوع کو لوگوں کے لئے انتہائی طور پر دلچسپی کا موضوع بنا دیا۔ کرشنا من اس موضوع پر ایک کتاب لکھ کر ایک "بسٹ سیلر" وجود میں لا سکتے تھے۔ متعدد ناشرین نے ان کو ایسی ایک کتاب کے لئے بڑی بڑی رقموں کی پیش کش کی۔ اخبارات نے اس موضوع پر مضامین لکھنے کے لئے گراں قدر معاوضے پیش کئے ۔ مگر کرشنا من نے بالکل خاموشی اختیار کر لی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues