Al-Risala · January 1982 · page 34

قومی کردار

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۴

قومی کردار

دوسری جنگ عظیم میں جب کہ برطانوی فوج کے سامنے یہ مہم تھی کہ وہ ڈنکرک میں پھنسے ہوئے پانچ لاکھ فوجیوں کو فوری طور پر نکالے۔ اس وقت کے برطانی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے قوم سے اپیل کی کہ جن لوگوں کے پاس کشتیاں اور اسٹیمر ہیں، وہ بطور خود ان کو فلاں مخصوص مقام پر پہنچادیں ۔ پوری قوم نے اس اعلان کی تعمیل اس (Self. Centered) آدمی ہوں۔ بہت کم ایسا ہو سکتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے اندر بڑائی کا اعتراف کروں ۔ I will rarely admit greatness in other لارڈ چرچل نے برطانیہ کی وزارت عظمیٰ کا مقام حاصل کر لیا۔ یہ وہ عہدہ ہے جس کے لئے لارڈ ریتھ اپنے آپ کو سب سے زیادہ موزوں سمجھتے تھے۔ چرچل کا تصور آتے ہی ان کے اندر حریفانہ نفسیات کام کرنے لگتی تھی، جبکہ ہیلران کے لئے ایک غیر متعلق شخص تھا، ہٹلر کا نام ان کے اندرحجان ان نفرت اتاریں انہیں کرتا تھا۔ نہ تھی طرح کی کہ کوئی ایک شخص بھی نہ بچا جس نے اپنی کشتی اور اسٹیمر مقررہ مقام پر نہ پہنچادی ہو۔

ایک انسانی کم زوری

لارڈ ریٹھ (1941 - 189) بی بی سی لندن کے "فادر" کہے جاتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ اور انہوں نے برطانی عوام کے اندر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

۵۲۵ صفحات پر مشتمل ان کی ذاتی ڈائری (The Reith Diaries) شائع ہوئی ہے۔ ڈائری میں حیرت انگیز طور پر ہٹلر (1945 - 1889) کے لئے (Magnificient Efficiency) شان دار کار کردگی کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے برعکس خود اپنے ملک کے لارڈ ونسٹن چر چل (1965 - 1874) کے لئے ان کے (Lunatic) (Imposter) پاس مکار الفاظ ہیں۔

اس فرق کی وجہ ہم کو خود ان کے اعتراف میں مل جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک انتہائی قسم کا خود پسند سادہ سی وجہ مذکورہ بالا فرق کی ۔

میں سوچ رہا ہوں

راجہ راؤ ایک میسوری برہمن ہیں اور ہندوستان کے مشہور فلسفی ہیں۔ ہندوستان میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد ۱۹۲۹ میں وہ مزید مطالعہ کے لئے پیرس گئے۔ اور ۱۹۵۰ میں پہلی بار امریکہ کا سفر کیا۔ ۱۹۷۰ء میں امریکہ کی ٹیکس یونیورسٹی میں ان کو فلسفہ کے مہمان پروفیسر کی حیثیت سے بلایا گیا۔ اس قیام کے دوران ایک امریکی مصنفہ الزبتھ ووڈہل نے ان سے مفصل انٹرویو لیا۔ الزبتھ ووڈہل دو بار ہندوستان آچکی ہیں۔ انٹرویو کا ایک فقرہ یہ ہے:

راؤ اپنی ذہنی زندگی کی حفاظت کرنے میں بڑے مستعد ہیں۔ وہ بغیر کسی احساس ندامت کے محض اس بنا پرکسی ملاقاتی سے ملنے سے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ "سوچ" رہے ہیں۔ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ یہ کہنے کے لئے بھی امریکہ کی سرزمین چاہئے۔ ہندوستان میں اگر کوئی ایسا کہے تو اس کو پاگل کا خطاب ملے گا یا مغرور کا۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کے راز کو سمجھ لے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page