Al-Risala · January 1982 · page 35

میں سوچ رہا ہوں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵

مولانا عبد الماجد دریا بادی (۱۸۹۲-۱۹۶۶) کے دادا مفتی محمد مظہر کریم صاحب اپنے وقت کے ایک ممتاز عالم تھے۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ میں علماء نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا جو فتویٰ دیا، اس پر ان کے بھی دستخط تھے۔ اودھ کے دوسرے علماء مثلاً مولانا فضل حق خیر آبادی مفتی عنایت احمد (مؤلف علم الصیغہ) وغیرہ کے ساتھ انہیں بھی حبس دوام بعبور دریائے شور کی سزا ملی۔ قید کے زمانہ میں کوئی کام نہیں تھا۔ چنانچہ مولانا مظہر کریم صاحب نے ایک ضخیم عربی کتاب کا اردو ترجمہ کر ڈالا۔ وہاں کے انگریز افسر کو اس کی خبر ملی تو اس نے اس کو ایک علمی کارنامہ قرار دیا، اور اتنا خوش ہوا کہ حکومت سے ان کے حق میں پر زور سفارش کی۔ اس سفارش کے بعد اگرچہ فوری طور پر ان کی رہائی نہ ہو سکی تاہم ان کی قید کی میعاد میں کافی کمی کر دی گئی۔ سیاسی حریف کی حیثیت سے انگریز مولانا مظہر کریم کا دشمن تھا، علمی اور تعمیری کام کرنے والے کی حیثیت سے وہ ان کا دوست بن گیا۔ یہ چھوٹا سا واقعہ ہماری جدید تاریخ کی تصویر ہے۔ جن میدانوں میں ہمارے لئے کام کے مواقع تھے، وہاں کام کرنے سے ہم کو کوئی دلچسپی نہیں ہوئی، اور جس میدان میں کام کا موقع نہیں ہے، وہاں ہم اپنا سر ٹکڑا رہے ہیں۔ مزید نادانی یہ کہ اس لاحاصل کام کا نام ہم نے جہاد رکھ لیا ہے۔ یہ بے اعتمادی کی فضا یہ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن کا واقعہ ہے۔ میں ٹکٹ کی کھڑکی پر اپنا ٹکٹ لے رہا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اس کو کسی مقام کا ٹکٹ لینا تھا جس کی قیمت پانچ چھپیسے ہوتی تھی۔ اس نے ریزگاری بکنگ کلرک کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنا ٹکٹ مانگا۔ مٹھی بھر ریزگاری دیکھ کر کلرک بگڑ گیا۔ ”روپیہ لے آؤ۔ ہم کب تک اس کو گنتے رہیں گے! “ اس نے کہا اور دوسرے مسافر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ دیہاتی آدمی کھڑکی سے نکل کر باہر آ گیا۔ مجھے اس کی حالت پر ترس آیا۔ میں اس کے قریب گیا اور اس سے کہا کہ یہ ریزگاری مجھ کو دے دو اور اس کے بدلے مجھ سے نوٹ لے لو۔ دیہاتی نے کوئی جواب نہیں دیا نہ ایک لمحہ کے لئے اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر خاموشی سے ایک طرف روانہ ہو گیا۔

دیہاتی نے میری پیش کش کیوں قبول نہ کی۔ اس کی وجہ بے اعتمادی ہے کہ ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جہاں کسی کو دوسرے پر بھروسہ نہیں۔ آج اگر کوئی شخص کسی پر مہربان ہوتا ہے تو صرف اپنے فائدہ کے لئے نہ کہ حقیقتاً دوسرے کی مدد کے لئے۔ دیہاتی نے غالباً یہ سوچا کہ میرے پاس کچھ خراب نوٹ ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر میں ان کو دیہاتی کی ریزگاری سے بدل لینا چاہتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page