میں سوچ رہا ہوں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۶
اور ہمارے عوامی حکمران ! حفاظتی عملہ یا افسروں کے غول کے بغیر تنہا گھومتے رہے۔ ان کی سواری ایک معمولی سائیکل رکشا تھا۔ غریب رکشے والا دن بھر کا تھکا ہوا اپنی معمولی کمائی پر افسردہ چلا جا رہا تھا ROYAL FARE FOR RICKSHAW-PULLER KATHMANDU, Nov 18.-King Birendra and Queen Aishwarya rode a cycle rickshaw through the border town of Birgunj, in eastern Nepal, says Samachar. An English daily, Mother- land, yesterday reported that as the tired rickshaw-puller was calling it a day after paltry earnings, he found a young couple briskly walking across the road and boarding his rickshaw, The passengers wanted to see the town and the rickshaw- puller was too pleased to show the "tourists" around. He ex- plained the various landmarks to them and talked about his hopes to earn a lot of money. After half-an-hour's ride the passengers got down and the rickshaw-puller stared in dis- belief when he was paid Rs 2,000 as fare. The Motherland reported that the King often travelled incognito to study the prob- lems of the poor. روپیہ کرایہ دیا گیا تو رکشہ والا حیرت میں رہ گیا۔ کہ ایک جوڑے نے اس کو روکا، جو سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا اور اس پر سوار ہو گئے۔ ۔ دونوں سواروں نے شہر کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور رکشے والا ان "سیاحوں" کو خوشی خوشی قصبہ کی سیر کراتا رہا۔ اور مختلف مقامات کے بارے میں ان کو بتاتا رہا۔ آدھ گھنٹہ کی سواری کے بعد دونوں مسافر رکشے سے اتر گئے۔ رکشے والے کو اس وقت سخت حیرانی ہوئی جب اس نے دیکھا کہ دونوں مسافروں نے اس کو کرایہ کے طور پر دو ہزار روپے دیے ہیں۔ مہاراجہ نیپال کے لئے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ وہ اکثر اسی بیرنج، نیپال کا ایک قصبہ ہے جو ریاست کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ نیپال کے مہاراجہ اور مہارانی یہاں موتا طرح جیسی بدلی کر ریاست کے مختلف مقامات پر جاتے ہیں تا کہ غریب عوام کے مسائل کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔ کے وقت لو پہ پچاس برس پہلے کی بات ہے جب کہ ساری دنیا میں یورپ کی مسیحی قوموں کا غلبہ تھا۔ قاہرہ کے ایک عیسائی مشنری مسٹر واٹسُن سے ایک شخص نے پوچھا : کتنے دنوں سے آپ مسیحی تبلیغ کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ "پچاس سال سے" پادری نے جواب دیا۔ "اتنے دنوں میں کتنے مسلمانوں نے عیسائیت کو اختیار کیا؟ " اس کا اگلا سوال تھا۔ "تقریباً ڈیڑھ سو " پادری نے کہا۔ اور پھر فوراً ہی بولا : " مگر پھر بھی آپ کو خبر دار رہنے کی ضرورت ہے"۔
سوال کرنے والے کے لئے پادری کا یہ جملہ غیر متوقع تھا۔ اس سے آپ کی کیا مراد ہے ، اس نے دوبارہ پوچھا ۔ اس کے بعد پادری نے جو جواب دیا وہ یہ تھا : They are apt to become Christian for material motives. Then at their death they recant. وہ مادی محرک کے تحت عیسائی ہوجاتے ہیں اور پھر موت کے وقت توبہ کرلیتے ہیں Stanwood Cobb, Security for a Failing World, Baha'i Publishing Trust P. O. Box 19, New Delhi 1 1971, P. 91
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues