خدا کی طرف
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۷
خدا کی طرف
مارکونی پہلا شخص تھا جس نے ۱۹۰۱ء میں بحر اٹلانٹک کے ایک طرف سے دوسری طرف ریڈیو لہریں بھیجنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس وقت یہ معلوم نہ ہو سکا تھا کہ وہ کون سا ذریعہ ہے جس نے لہروں کے اس سفر میں مدد دی ہے۔ ۱۹۲۳ء میں ایڈورڈ ا یپلٹن وغیرہ نے دریافت کیا کہ یہ زمین کی اوپری فضا میں آئونسفیئر کی موجودگی ہے جو لاسلکی پیغام رسانی کو ممکن بناتی ہے۔ تاہم یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ فضا میں آئونسفیئر کا یہ حیرت انگیز نظام کس نے قائم کر رکھا ہے ــــ اس قسم کے سوالات کا سائنس کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ساری ترقیات کے باوجود علم کی یہ بے بسی انسان کو خدا کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے اس سلسلے کا تازہ واقعہ یہ ہے کہ چاند پر جانے والے امریکی خلا باز جیمز ارون نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ علم کی ترقی نے انسان کے اس احساس میں صرف اضافہ کیا ہے کہ خدا کے آگے جھکنے کے سوا اس کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ کام کا صحیح طریقہ شری نانک جی موٹوانی (۱۹۰۴ء - ۱۹۷۰) ایک آزادی پسند ہندوستانی تھے۔ ۱۹۳۴ء میں ان کو نظر بندی کی سزا ہوئی ۔ وہ آٹھ مہینے جیل میں رہے۔ مہاتما گاندھی، سردار پٹیل، پنڈت نہرو، راجندر پرشاد وغیرہ سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔
یہی نانک جی موٹوانی ہیں جنہوں نے ہندوستان میں سب سے پہلے لاؤڈ اسپیکر کی صنعت قائم کی۔ انہوں نے دیکھا کہ ہندوستانی لیڈروں کے جلسہ میں بہت بڑا بڑا مجمع اکٹھا ہونا ہے۔ مگر لاؤڈ اسپیکر نہ ہونے کی وجہ سے مقرر کی آواز پوری طرح لوگوں تک نہیں پہنچتی۔ انہوں نے اس کمی کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی فیصلہ کا نتیجہ مشہور لاؤڈ اسپیکر شکاگو ریڈیو (Chicago Radio) تھا۔ جس سے آج سارا ہندوستان واقف ہے۔
صرف اخبار نکالنا اور جلسہ کرنا کام نہیں۔ کام یہ ہے کہ مختلف لوگ مختلف ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگیں۔ اس کے بغیر حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی۔
کون کس کی جیب میں
پہلی جنگ عظیم کے بعد جس زمانہ میں خلافت تحریک کا زور تھا، علی برادران نے ملک کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد بھی تھے۔ جو ان دنوں ترک موالات کی تحریک چلا رہے تھے۔ مولانا شوکت علی ان دنوں اکثر فخریہ انداز میں کہتے تھے "گاندھی جی میری جیب میں ہیں" کچھ دنوں بعد سیاسی اختلافات ہوئے اور علی برادران نے مہاتما گاندھی کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنا راستہ الگ اختیار کیا۔ مولانا محمد علی لندن میں انتقال کر گئے ۔ اور مولانا شوکت علی محمد علی جناح کے ساتھ مل گئے ۔ ایک بار مسلم لیگ کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے مولانا شوکت علی نے کہا : "مہاتما گاندھی کہاں ہیں جنہوں نے گول میز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو سادہ چک دینے کے لئے تیار ہیں" مہاتما گاندھی کو معلوم ہوا تو انھوں نے اپنی پرارستھنا کی تقریر میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا : "بڑے بھائی کو اپنی جیب دیکھنا چاہئے ۔ وہ مجھ کو وہاں پائیں گے " (ریڈیئس ۲۷ نومبر ۱۹۷۸)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues