Al-Risala · January 1982 · page 38

کون کس کی جیب میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۸

ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کو بھون کر کھائے گا خوشی صرف اس بات کی ہے کہ اس وقت میں زندہ نہیں رہوں گا۔

ملک امیر محمد خاں نے ستمبر ۱۹۶۶ میں گوزری سے استعفا دے دیا۔ اور اپنے آبائی وطن کالا باغ چلے گئے۔ جہاں ان کے کھیت اور باغات تھے۔ یہاں ان کے گھر پر جائیداد کا جھگڑا شروع ہوا ۔ بالآخر ایک روز وہ خود اپنے بیٹے ملک محمد اسد خاں کے خلاف رائفل لے کر کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے اپنے بیٹے پر گولی چلائی مگر وہ کندھے کو زخمی کرتی ہوئی نکل گئی۔ اب بیٹے کی باری تھی۔ اس نے چھ گولیاں اپنے باپ کے جسم میں اتار دیں۔ اور وہ وہیں موقع پر ختم ہوگئے۔

وہ شخص جس نے خاندانی منصوبہ بندی کو قتل قرار دے کر گورنری کے عہدہ کو چھوڑ دیا تھا، بالآخر خود اپنے بیٹے کے خلاف بندوق لے کر کھڑا ہوگیا اگر چہ اس مقابلہ میں جوان بیٹا بوڑھے باپ پر غالب آیا اور نتیجہ برعکس شکل میں برآمد ہوا۔ کیسا عجیب مغربی پاکستان کے سابق گورنر امیر محمد خاں (مستوفی ۱۹۷۶) نے یورپ میں زرعی سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ صدر ایوب کی حکومت کے زمانہ میں پاکستان میں جو سبز انقلاب آیا تھا اس کا سہرا دراصل ملک امیر محمد خاں ہی کے سر ہے جو اس وقت پاکستان کے غذائی و زرعی کمیشن کے صدر تھے اور بعد کو اپنی خدمات کے اعتراف میں گورنر بنا دیئے گئے ۔ وہ مشرقی تہذیب کا نمونہ تھے گورنر ہاؤس میں نماز روزہ کی سختی سے پابندی کرتے اور ان کے گھر کی خواتین ہمیشہ پردہ کے اندر رہتیں۔ جب پاکستان کے تیسرے منصوبہ میں خاندانی منصوبہ بندی کے لئے ۳۰ کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی تو انھوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ بات بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ صدر ایوب نے جھنجھلا کر کہہ دیا کہ اگر آبادی کی روک تھام نہ ہوئی تو ایک وقت وہ آئے گا جب اناج کی کمی کی وجہ سے توہم پرستی کہاں تک لے جاتی ہے اہل کارتھیج اور رومیوں کی مشہور جنگ میں جب کار تھیج کے باشندوں کو شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا یہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جو مولول دیوتا کی عبادت کے سلسلہ میں ان سے ہوتی رہی ہے۔ یہ دیوتا ان کے عقیدے کے مطابق ان کے اشراف کے لڑکوں کی قربانی پسند کرتا تھا۔ مگر کارتھیج کے اعلیٰ خاندانوں نے اپنے لڑکوں کو بچانے کے لئے کئی سال یہ کیا کہ وہ قربانی کے دن چپکے سے کسی معمولی لڑکے کو پکڑ کر اسے قربان کر دیتے تھے۔ جب انھیں شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا کہ ان کی اس بدعنوانی کی وجہ سے دیوتا ناراض ہوگیا ہے۔ چنانچہ اعلیٰ خاندان کے کئی لڑکے مقدس آگ میں جھونک دئے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues

Printed page