کون کس کی جیب میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۹
خود را نصیحت دیگران را نصیحت ڈاکٹر محمد اقبال کی پاس ایک بزرگ وراثت کے معاملہ میں قانونی مشورہ کے لئے آیا کرتے تھے۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب داڑھی نہیں رکھتے تھے، وہ اکثر داڑھی کی اہمیت پر وعظ کہتے۔ آخر ایک دن ڈاکٹر اقبال نے کہا: آپ کی وعظ و تلقین کا میرے اوپر بہت اثر ہوا ہے۔ اب میں نے طے کیا ہے کہ آپ سے ایک معاہدہ کروں۔ جس طرح داڑھی نہ رکھنا ایک شرعی کو تاہی ہے، اپنی بہن کو وراثت سے محروم کرنا بھی اسی طرح شریعت کے خلاف ورزی ہے پہلے گناہ میں میں مبتلا ہوں تو دوسرے میں آپ مبتلا ہیں۔ آئیے طے کیجئے ۔ آج سے میں داڑھی رکھ لیتا ہوں اور آپ اپنی بہن کا وراثتی حصہ دے دیں۔ بزرگ اس معاہدہ کے لئے تیار نہ ہوئے۔ انھوں نے نہ اپنی بہن کو وراثت کا حصہ دیا اور نہ ڈاکٹر اقبال کے چہرہ پر داڑھی اگ سکی۔ آدمی کو اپنی غلطیوں کا پتہ نہیں ہوتا۔ البتہ وہ دوسرے کی غلطیوں سے خوب باخبر ہوتا ہے۔ حالاں کہ آدمی کو جو چیز سب سے زیادہ جاننا چاہئے وہ خود اپنی غلطی ہے۔ کیوں کہ اپنی غلطیوں کا جاننا ہی آخرت میں کسی کے کام آئے گانہ کہ دوسروں کی غلطیوں کو جاننا۔ آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوگی کہی تھی " اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک تم بھوک سے بے تاب نہ ہو جاؤ۔ "
غذایی میں انسان کی طاقت ہے مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ غذا ہی آدمی کی ساری بیماریوں کی جڑ ہے۔ غلط خوراک یا ناقص خوراک جتنی مضر ہے اتنی ہی مضر یہ بات بھی ہے کہ آدمی بھوک کے بغیر کھائے یا ضرورت سے زیادہ اپنے پیٹ کو بھرے۔ " صحت کا راز ایک لفظ میں صرف یہ ہے: صحیح خوراک معتدل مقدار میں !
اگر آدمی صرف اس ایک اصول کو پوری طرح پکڑلے تو اس کو زندگی بھر ڈاکٹر بتائی، یہی بات سقراط نے ان لفظوں میں کی ضرورت نہیں ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1982 All issues